أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، وَعَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «جَرْحُ الْعَجْمَاءِ جُبَارٌ، وَالْبِئْرُ جُبَارٌ، وَالْمَعْدِنُ جُبَارٌ، وَفِي الرِّكَازِ الْخُمْسُ» .
قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهَذَا نَأْخُذُ، وَالْجُبَارُ الْهَدَرُ، وَالْعَجْمَاءُ الدَّابَّةُ الْمُنْفَلِتَةُ تَجْرَحُ الإِنْسَانَ، أَوْ تَعْقِرُهُ، وَالْبِئْرُ وَالْمَعْدِنُ، الرَّجُلُ يَسْتَأْجِرُ الرَّجُلَ يَحْفُرُ لَهُ بِئْرًا وَمَعْدِنًا، فَيَسْقُطُ عَلَيْهِ، فَيَقْتُلَهُ، فَذَلِكَ هَدَرٌ، وَفِي الرِّكَازِ الْخُمْسُ، وَالرِّكَازُ مَا اسْتُخْرِجَ مِنَ الْمَعْدِنِ مِنْ ذَهَبٍ، أَوْ فِضَّةٍ، أَوْ رَصَاصٍ، أَوْ نُحَاسٍ، أَوْ حَدِيدٍ، أَوْ زَيْبَقٍ، فَفِيهِ الْخُمْسُ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ، وَالْعَامَّةِ مِنْ فُقَهَائِنَا
ابو سلمہ بن عبد الرحمن نے ابوہریرہ (رض) سے نقل کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا۔ کہ چار پایوں کے مجروح کرنے میں ، کنواں کھودتے ہوئے دب کر مرجانے میں، اور کان کھودتے ہوئے دب کر مرجانے میں دیت نہ ہوگی۔ مدفون خزانہ جس کو مل جائے اس کا پانچواں حصہ حکومت وقت لے گی۔ ( اس روایت کو امام مالک (رح) نے باب جامع العقل میں ذکر ہے)
قول محمد (رح) یہ ہے : کہ ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں کہ جبار کے معنی لغو ہیں اور عجماء وہ چوپایہ جس کو چرنے کے لیے چھوڑ دیا جائے اور وہ کسی کو زخمی کردے یا سینگ ماردے۔ کنوأن اور کان کھودنے کے لیے مزودور لگائے جائیں اور وہ گر پرے اور کھودنے والے دب کر مرجائیں۔ تو وہ بھی لغو ہے۔ یعنی اس بر کوئی دیت نہ ہوگی۔ البتہ کان سے جو سونا، چاندی ، سیسہ ، تانبا، لوھار یا پارہ نکلے اس میں سے پانچواں حصہ حکومت وقت کو دینا ہوگا۔ یہی امام ابوحنیفہ (رح) اور ہمارے عام فقہاء کا قول ہے