أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ، يَقُولُ: إِنَّ رَجُلا مِنْ أَسْلَمَ أَتَى أَبَا بَكْرٍ، فَقَالَ: إِنَّ الأَخِرَ قَدْ زَنَى، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: هَلْ ذَكَرْتَ هَذَا لأَحَدٍ غَيْرِي؟ قَالَ: لا، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: تُبْ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَاسْتَتِرْ بِسِتْرِ اللَّهِ، فَإِنَّ اللَّهَ يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِه.
قَالَ سَعِيدٌ: فَلَمْ تَقَرَّ بِهِ نَفْسُهُ حَتَّى أَتَى عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، فَقَالَ لَهُ كَمَا قَالَ لأَبِي بَكْرٍ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ كَمَا قَالَ أَبُو بَكْرٍ، قَالَ سَعِيدٌ: فَلْم تَقَرَّ بِهِ نَفْسُهُ حَتَّى أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ: الأَخِرُ قَدْ زَنَى، قَالَ سَعِيدٌ: فَأَعْرَضَ عَنْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فقَالَ لَهُ ذَلِكَ مِرَارًا، كُلُّ ذَلِكَ يُعْرِضُ عَنْهُ، حَتَّى إِذَا أَكْثَرَ عَلَيْهِ، بَعَثَ إِلَى أَهْلِهِ، فَقَالَ: «أَيَشْتَكِي؟ أَبِه جِنَّةٌ؟ !» قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهُ لَصَحِيحٌ، قَالَ: «أَبِكْرٌ أَمْ ثَيِّبٌ» قَالُوا: ثَيِّبٌ.
«فَأَمَرَ بِهِ، فَرُجِمَ»
سعید بن مسیب بیان کرتے تھے کہ قبیلہ بنو اسلم کا ایک شخص حضرت ابوبکر صدیق (رض) کی خدمت میں آیا کہ میں نالائق نے زنا کرلیا ہے۔ حضرت ابوبکر (رض) نے درفیات فرمایا کیا تم نے کسی اور سے اس کا تذکرہ کیا ہے ؟ اس نے کہا نہیں۔ آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ سے توبہ کرو۔ اور اپنے گناہ کو اللہ کے پردہ میں چھپائے رکھ۔ اللہ تعالیٰ بلاشبہ اپنے بندوں کی توبہ قبول کرنے والے ہیں۔ سعید کہتے ہیں کہ اس بات سے اس کا دل مطمئن نہ ہوا۔ یہاں کہ تک وہ حضرت عمر (رض) کے پاس آیا اور ان سے بہی وہی کہا جو حضرت ابوبکر (رض) سے کہا تھا۔ حضرت عمر (رض) نے وہی جواب دیا جو حضرت ابوبکر (رض) نے فرمایا تھا۔
سعید کہتے ہیں کہ اس کے دل کو پھر بھی اطمنینان نہ ہوا۔ تاآنکہ وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں پہنچا اور کہنے لگا۔ اس نالائق نے زنا کیا ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے اعراض فرمایا۔ سعید (رح) کہتے ہیں اس نے بار بار یہی کہا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہر بار اس سے اعراض فرماتے رہے۔ جب بہت زیادہ ( مرتبہ یہ اقرار) ہوگیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے گھر والوں کو بلایا اور ان سے دریافت کیا کہ کیا یہ بیمار ہے۔ یا مجنون ہے ؟ انھوں نے کہا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ بالکل تندرست ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا۔ یہ شادی شدہ ہے یا غیر شادی شدہ ہے۔ انھوں نے بتلایا کہ یہ شادی شدہ ہے۔ تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا۔ اسے سنگسار کرو اس کو سنگسار کردیا گیا۔