hadith book logo

Muawtta Imam Muhammad: Hadith 700

.

موطأ الامام محمد

700
Muawtta Imam Muhammad
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ، أنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِرَجُلٍ مِنْ أَسْلَمَ يُدْعَى هَزَّالا: «يَا هَزَّالُ، لَوْ سَتَرْتَهُ بِرِدَائِكَ لَكَانَ خَيْرًا لَكَ» ، قَالَ يَحْيَى: فَحَدَّثْتُ بِهَذَا الْحَدِيثِ فِي مَجْلِسٍ فِيهِ يَزِيدُ بْنُ نُعَيْمِ بْنِ هَزَّالٍ، فَقَالَ: هَزَّالٌ جَدِّي، وَالْحَدِيثُ صَحِيحٌ حَقٌّ. قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهَذَا كُلِّهِ نَأْخُذُ، وَلا يُحَدُّ الرَّجُلُ بِاعْتِرَافِهِ بِالزِّنَى حَتَّى يُقِرَّ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ فِي أَرْبَعِ مَجَالِسَ مُخْتَلِفَةٍ، وَكَذَلِكَ جَاءَتِ السُّنَّةُ: لا يُؤْخَذُ الرَّجُلُ بِاعْتِرَافِهِ عَلَى نَفْسِهِ بِالزِّنَا حَتَّى يُقِرَّ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ، وَالْعَامَّةِ مِنْ فُقَهَائِنَا. وَإِنْ أَقَرَّ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ ثُمَّ رَجَعَ قُبِلَ رَجُوعُهُ وَخُلِّيَ سَبِيلُهُ.
یحییٰ بن سعید ر ضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک شخص کو جو قبیلہ اسلم سے تعلق رکھتا تھا اور اسے ہزال کہا جاتا تھا ۔ فرمایا۔ اے ہزال ! اگر تم اسے اپنی چادر سے چھپاتے تو یہ تیرے لیے بہتر تھا۔ یحییٰ کہتے ہیں کہ میں نے یہ روایت ایک مجلس میں بیان کی جس میں یزید بن نعیم بن ہزال موجود تھے ۔ تو یزید کہنے لگے کہ یہ ہزال میرے دادا تھے۔ اور یہ حدیث صحیح ہے اور حق ہے۔ ( ان تمام روایات و آثار کو ٦٩٦ کے علاوہ امام مالک (رح) نے باب ما جاء فی الرجم میں ذکر کیا ہے)
قول محمد (رح) یہ ہے : ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں۔ کسی پر حد صرف اعتراف سے جاری نہ کی جائے گی جب تک چار مختلف مجالس میں چار مرتبہ وہ اعتراف نہ کرے۔ احادیث میں اسی طرح وارد ہے۔ کہ کسی شخص کو اپنے بارے میں اعتراف زنا کرنے پر حد جاری نہ کی جائے جب تک چار بار اعتراف نہ کرے۔ یہی امام ابوحنیفہ (رح) اور ہمارے عام فقہاء کا قول ہے۔ اور اگر چار بار اقرار کرکے پھر اقرار سے پھر جائے تو اس کا رجوع کرلینا قبول کیا جائے گا۔ اور اسے چھوڑ دیا جائے گا۔