أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا أَبُو الرِّجَالِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أُمِّهِ عَمَرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ رَجُلَيْنِ فِي زَمَانِ عُمَرَ اسْتَبَّا، فَقَالَ أَحَدُهُمَا: مَا أَبِي بِزَانٍ، وَلا أُمِّي بِزَانِيَةٍ، فَاسْتَشَارَ فِي ذَلِكَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، فَقَالَ قَائِلٌ: مَدَحَ أَبَاهُ وَأُمَّهُ، وَقَالَ آخَرُونَ: وَقَدْ كَانَ لأَبِيهِ وَأُمِّهِ مَدْحٌ سِوَى هَذَا، نَرَى أَنْ تَجْلِدَهُ الْحَدَّ، فَجَلَدَهُ عُمَرُ الْحَدَّ ثَمَانِينَ.
قَالَ مُحَمَّدٌ: قَدِ اخْتَلَفَ فِي هَذَا عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: لا نَرَى عَلَيْهِ حَدًّا، مَدَحَ أَبَاهُ وَأُمَّهُ، فَأَخَذْنَا بِقَوْلِ مَنْ دَرَأَ الْحَدَّ مِنْهُمْ، وَمِمَّنْ دَرَأَ الْحَدَّ وَقَالَ لَيْسَ فِي التَّعْرِيضِ جَلْدٌ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، وَبِهَذَا نَأْخُذُ وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ، وَالْعَامَّةِ مِنْ فُقَهَائِنَا
عمرہ بنت عبد الرحمن نے بیان کیا کہ حضرت عمر (رض) کے زمانہ میں دو افراد نے باہم گالی گلوچ کی۔ پس ان میں سے ایک نے دوسرے کو کہا نہ میرا باپ زانی تھا اور نہ میمرے مان نے زنا کیا۔ حضرت عمر (رض) نے اس کے متعلق مشورہ کیا۔ ایک نے کہا اس نے اپنے ماں، باپ کی تعریف کی ہے۔ دوسروں نے کہا۔ کیا اس کے کے ماں باپ میں اور کوئی خوبی نہ تھی۔ ہماری رائے یہ ہے کہ پر حد جاری کی جائے ( کہ اس نے کنایہ دوسرے کے ماں، باپ کو زانی کہا ہے) حضرت عمر (رض) نے اسے اسی کوڑوں کی سزا دی ۔ اس اثر کو امام مالک نے بال الحد فی القذف میں ذکر کیا ہے۔
قول محمد (رح) یہ ہے : اس میں صحابہ کرام (رض) عنہم نے حضرت عمر (رض) سے اختلاف کیا۔ ان میں سے بعض نے کہا ہم اس پر حد کو لازم خیال نہیں کرتے۔ اس نے اپنے ماں، باپ کی تعریف کی ہے۔ ہم حد کی نفی کرنے والے صحابہ کرام (رض) عنہم کے قول پر عمل کرتے ہیں۔ اس پر ہمارا عمل ہے کہ علی مرتضی نے فرمایا تعریض پر حد نہیں۔ اور ہم اسی کو اختیار کرنے والے ہیں۔ امام ابوحنیفہ (رح) اور ہمارے عام فقہاء کا یہی قول ہے۔