hadith book logo

Muawtta Imam Muhammad: Hadith 720

.

موطأ الامام محمد

720
Muawtta Imam Muhammad
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا دَاوُدُ بْنُ الْحُصَيْنِ، عَنْ وَاقِدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ الأَنْصَارِيِّ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، حِينَ قَدِمَ الشَّامَ، شَكَا إِلَيْهِ أَهْلُ الشَّامِ وَبَاءَ الأَرْضِ أَوْ ثِقَلَهَا، وَقَالُوا: لا يَصْلُحُ لَنَا إِلا هَذَا الشَّرَابُ، قَالَ: اشْرَبُوا الْعَسَلَ، قَالُوا: لا يُصْلِحُنَا الْعَسَلُ، قَالَ لَهُ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الأَرْضِ: هَلْ لَكَ أَنْ أَجْعَلَ لَكَ مِنْ هَذَا الشَّرَابِ شَيْئًا لا يُسْكِرُ، قَالَ: نَعَمْ. فَطَبَخُوهُ، حَتَّى ذَهَبَ ثُلُثَاهُ، وَبَقِيَ ثُلُثُهُ، فَأَتَوْا بِهِ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، فَأَدْخَلَ أُصْبُعَهُ فِيهِ، ثُمَّ رَفَعَ يَدَهُ، فَتَبِعَهُ يَتَمَطَّطُ، فَقَالَ: هَذَا الطِّلاءُ مِثْلُ طِلاءِ الإِبِلِ، فَأَمَرَهُمْ أَنْ يَشْرَبُوهُ، فَقَالَ عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ: أَحْلَلْتَهَا وَاللَّهِ، قَالَ: كَلَّا، وَاللَّهِ مَا أَحْلَلْتُهَا، اللَّهُمَّ إِنِّي لا أُحِلُّ لَهُمْ شَيْئًا حَرَّمْتَهُ عَلَيْهِمْ، وَلا أُحَرِّمُ عَلَيْهِمْ شَيْئًا أَحْلَلْتَهُ لَهُمْ. قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهَذَا نَأْخُذُ، لا بَأْسَ بِشُرْبِ الطِّلاءِ الَّذِي قَدْ ذَهَبَ ثُلُثَاهُ وَبَقِيَ ثُلُثُهُ، وَهُوَ لا يُسْكِرُ، فَأَمَّا كُلُّ مُعَتَّقٍ يُسْكِرُ فَلا خَيْرَ فِيهِ
محمود بن لبید انصاری بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) شام تشریف لے گئے تو اہل شام نے وہاں کے دباء اور آپ و ہوا کے بھار ہونے کی شکایت کی۔ اور کہا اس شراب کے بغیر ہمارا مزاج درست نہیں ہوتا۔ آپ نے فرمایا شہد پی لیا کرو۔ وہ کہنے لگے ۔ شہد ہمیں موافق نہیں آتا۔ ان میں سے ایک شخص نے کہا۔ آپ اس میں سے ایسی چیز بنانے کی اجازت دے دیں جو نشہ آور نہ ہود فرمایا ہاں ! تو انھوں نے اسے پکایا۔ یہاں تک کہ اس کا دو تہائی حصہ أڑگیا۔ اور ایک تہائی باقی رہ گیا۔ حضرت عمر (رض) نے اس میں انگلی ڈالی پھر اپنا ہاتھ اٹہایا تو وہ ہاتھ ( چکناہت سے) چپ جپ کرنے لگا۔ اس پر آپ نے فرمایا یہ طلاء تو اونٹ کے طلاء ک مانند ہے۔ پس آپ نے اس کے پینے کی اجازت دے دی۔ اس پر عبادہ بن صامت (رض) نے کہا کہ اللہ کی قسم ! آپ نے اسے حلال کردیا ہے۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا اللہ کی قسم ! میں نے اسے حلال نہیں کیا اے اللہ میں نے ان پر کوئی وہ چیز حلال نہیں کی ہے۔ جو تو نے حرام کی تھی یاور نہ میں نے ان پر کوئی ایسی چیز حرام کی ہے جو تو نے حلال کی تھی۔ ( اس اثر کو باب جامع تحریم الخمر میں امام مالک (رح) نے ذکر کیا ہے۔
قول محمد (رح) یہ ہے : ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں۔ طلاء کے پینے میں کوئی حرج نہیں۔ جس کا دو تہائی خشک ہوجائے باقی ایک تہائی رہ جائے بشرطیہ وہ نشہ نہ لائے۔ مگر ہر پرانی شراب جو نشہ آور ہو اس میں کوئی بھلائی نہیں یعنی وہ حرام ہی ہے۔