hadith book logo

Muawtta Imam Muhammad: Hadith 732

.

موطأ الامام محمد

732
Muawtta Imam Muhammad
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا بُكَيْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الأَشَجِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، قَالَ: «أَبَى عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، أَنْ يُوَرِّثَ أَحَدًا مِنَ الأَعَاجِمِ إِلا مَا وُلِدَ فِي الْعَرَبِ» ، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهَذَا نَأْخُذُ، لا يُوَرَّثُ الْحَمِيلُ الَّذِي يُسْبَى وَتُسْبَى مَعَهُ امْرَأَةٌ، فَتَقُولُ: هُوَ وَلَدِي أَوْ تَقُولُ هُوَ أَخِي، أَوْ يَقُولُ هِيَ أُخْتِي، وَلا نَسَبَ مِنَ الأَنْسَابِ يُوَرِّثُ إِلَّا بِبَيِّنَةٍ إِلَّا الْوَالِدُ وَالْوَلَدُ، فَإِنَّهُ إِذَا ادَّعَى الْوَالِدُ أَنَّهُ ابْنُهُ وَصَدَّقَهُ فَهُوَ ابْنُهُ، وَلا يَحْتَاجُ فِي هَذَا إِلَى بَيِّنَةٍ إِلا أَنْ يَكُونَ الْوَلَدُ عَبْدًا فَيُكَذِّبَهُ مَوْلاهُ بِذَلِكَ، فَلا يَكُونُ ابْنَ الأَبِ مَا دَامَ عَبْدًا حَتَّى يُصَدِّقَهُ الْمَوْلَى، وَالْمَرْأَةُ إِذَا ادَّعَتِ الْوَلَدَ، وَشَهِدَتِ امْرَأَةٌ حُرَّةٌ مُسْلِمَةٌ عَلَى أَنَّهَا وَلَدَتْهُ وَهُوَ يُصَدِّقُهَا وَهُوَ حُرٌّ فَهُوَ ابْنُهَا. وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ وَالْعَامَّةِ مِنْ فُقَهَائِنَا رَحِمَهُمُ اللَّهُ
سعید بن المسیب بیان کرتے ہیں کہ عمر بن خطاب (رض) نے کسی غیر عرب کو ترکہ دلانے سے انکار کردیا۔ مگر یہ کہ وہ عرب میں پیدا ہوا ہو۔ (اس اثر کو امام مالک نے باب میراث اہل الملل میں ذکر کیا ہے) ۔
قول محمد (رح) یہ ہے : ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں۔ کہ حمیل وارث نہ ہوگا۔ حمیل سے مراد وہ بچہ ہے جو دار الحرب سے گرفتار کرے لایا جائے۔ اور اس کے استھ کوئی عورت بہی ہو اور وہ عورت دعوی کرے کہ میرا ب یٹا ہے۔ یا کہے یہ میرا بھائی ہے یا کہے کہ یہ میری بہن ہے تو محض کسی نسب کے اقرار کرنے سے گواہوں کے بغیر وہ وارث نہ ہوگا۔ سوائے باپ بیٹے کے۔ اس لیے کہ جب باپ دعوی کرے کہ یہ میرا بیٹا ہے۔ اور بیٹا اس کی تصدیق کرے تو وہ اس کا بیٹا شمار ہوگا اس کے لیے کسی گواہی کی ضرورت نہیں۔ سوائے اس بات کے کہ باپ غلام ہو اور اس کا آقا اس کا انکار کرے۔ تو اس صورت میں وہ باپ کا بیٹا مار نہ ہوگا۔ جب تک مالک اس کی تصدیق نہ کرے۔ کیہ یہ اس نے جنا ہے) تو تصدیق کی صورت میں اس کا بیٹا ہے۔ یہی امام ابوحنیفہ (رح) اور ہمارے عام فقہاء کا قول ہے۔