أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا نَافِعٌ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، قَالَ: مَنْ حَلَفَ بِيَمِينٍ فَوَكَّدَهَا، ثُمَّ حَنَثَ، فَعَلَيْهِ عِتْقُ رَقَبَةٍ، أَوْ كِسْوَةُ عَشَرَةِ مَسَاكِينَ، وَمَنْ حَلَفَ بِيَمِينٍ، وَلَمْ يُؤَكِّدْهَا، فَحَنَثَ، فَعَلَيْهِ إِطْعَامُ عَشَرَةِ مَسَاكِينَ، لِكُلِّ مِسْكِينٍ مُدٌّ مِنْ حِنْطَةٍ، فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلاثَةِ أَيَّامٍ، قَالَ مُحَمَّدٌ: إِطْعَامُ عَشَرَةِ مَسَاكِينَ غَدَاءً وَعَشَاءً، أَوْ نِصْفُ صَاعٍ مِنْ حِنْطَةٍ، أَوْ صَاعٌ مِنْ تَمْرٍ، أَوْ شَعِيرٍ
نافع بیان کرتے ہیں کہ ابن عمر (رض) نے فرمایا جس نے قسم کھائی اور اسے مؤکد کردیا پھر اسے توڑ دیا۔ تو اس پر ایک غلام آزاد کرنا یا دس مسکینوں کو کھانا کھلانا واجب ہے۔ اور جس نے قسم کھاکر اسے مؤکد نہ کیا اور توڑ دیا۔ اس پر دس مساکین کا کھانا واجب بہے۔ ہر مسکین کو ایک مد گندم دے گا۔ اور جس کو اس کی استطاعت نہ ہو تین دن کے روزے رکھے۔ ( ان تینوں روایات کو امام مالک (رح) نے ابب العمل فی کفارۃ الایمان میں ذکر کیا ہے)
قول محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ ہے : کہ دس مساکین کو صبح و شام کھانا کھلائے یا نصف صاع گندم دے یا ایک صاع کھجور یا ایک صاع جو دے۔