أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي حَبِيبَةَ، قَالَ: قُلْتُ لِرَجُلٍ، وَأَنَا حَدِيثُ السِّنِّ، لَيْسَ عَلَى الرَّجُلِ يَقُولُ: عَلَيَّ الْمَشْيُ إِلَى بَيْتِ اللَّهِ وَلا يُسَمِّي نَذْرًا شَيْءٌ؟ فَقَالَ الرَّجُلُ: هَلْ لَكَ إِلَى أَنْ أُعْطِيَكَ هَذَا الْجَرْوَ، لِجَرْوِ قِثَّاءٍ فِي يَدِهِ، وَتَقُولُ: عَلَيَّ مَشْيٌ إِلَى بَيْتِ اللَّهِ تَعَالَى؟ فَقُلْتُ: نَعَمْ، فَقُلْتُهُ، فَمَكَثْتُ حِينًا حَتَّى عَقَلْتُ، فَقِيلَ لِي: إِنَّ عَلَيْكَ مَشْيًا، فَجِئْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ، فَسَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: عَلَيْكَ مَشْيٌ، فَمَشَيْتُ.
قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهَذَا نَأْخُذُ، مَنْ جَعَلَ عَلَيْهِ الْمَشْيَ إِلَى بَيْتِ اللَّهِ لَزِمَهُ الْمَشْيُ إِنْ جَعَلَهُ نَذْرًا، أَوْ غَيْرَ نَذْرٍ.
وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ، وَالْعَامَّةِ مِنْ فُقَهَائِنَا رَحِمَهُمُ اللَّهُ تَعَالَى
عبداللہ بن ابی حبیبہ نے بیان کیا کہ میں نے اپنی کم عمر میں ایک شخص سے کہا۔ اگر کوئی یہ کہے کہ مجھ پر خانہ کعبہ تک پیدل جانا واجب ہے اور وہ یوں نہ کہے۔ کہ مجھ پر نذر واجب ہے۔ تو اس پر کچھ لازم نہیں آتا۔ اس شخص نے کہا میرے ہاتھ میں یہ لکڑی ہے یہ تمہیں دیتا ہوں (لکڑی اس کے ہاتھ میں تھے) تم یہ کہہ دو کہ خانہ کعبہ تک پیدل جانا مجھ پر واجب ہے۔ میں نے کہا ہاں، اور میں کچھ دیر تھہرا یہاں تک کہ مجھے عقل آئی تو لوگوں نے کجھے کہا کہ بیت اللہ تک پیدل جانا تم پر واجب ہوگیا ۔ چنانچہ میں نے سعید بن المسیب (رح) کی خدمت میں حاضری دی اور ان سے اس کے متعلق دریافت کیا تو انھوں نے فرمایا تم پر پیدل جانا ہوگیا۔ چنانچہ میں پیدل چل کر گیا۔
(اس روایت کو باب ما جاء فی من نذر مشیا الی بیت اللہ میں ذکر کیا ہے)
قول محمد (رح) یہ ہے : ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں۔ جو آدمی خانہ کعبہ تک پیدل جانا اپنے اور پر لازم کرے خواہ وہ نذر کے طور پر ہو یا بلا نذر ہو۔ اس پر خانہ کعبہ تک پیدل جانا واجب ہوجاتا ہے۔ امام ابوحنیفہ (رح) اور ہمارے عام فقہاء کا یہی قول ہے۔