أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا أَبُو الرِّجَالِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أُمِّهِ عَمْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «نَهَى عَنْ بَيْعِ الثِّمَارِ حَتَّى تَنْجُوَ مِنَ الْعَاهَةِ» .
قَالَ مُحَمَّدٌ: لا يَنْبَغِي أَنْ يُبَاعَ شَيْءٌ مِنَ الثِّمَارِ عَلَى أَنْ يُتْرَكَ فِي النَّخْلِ حَتَّى يَبْلُغَ، إِلا أَنْ يَحْمَرَّ أَوْ يَصْفَرَّ، أَوْ يَبْلُغَ بَعْضُهُ، فَإِذَا كَانَ كَذَلِكَ فَلا بَأْسَ بِبَيْعِهِ عَلَى أَنْ يُتْرَكَ حَتَّى يَبْلُغَ، فَإِذَا لَمْ يَحْمَرَّ أَوْ يَصْفَرَّ، أَوْ كَانَ أَخْضَرَ، أَوْ كَانَ كُفَرَّى، فَلا خَيْرَ فِي شِرَائِهِ عَلَى أَنْ يُتْرَكَ حَتَّى يَبْلُغَ، وَلا بَأْسَ بِشِرَائِهِ عَلَى أَنْ يُقْطَعَ وَيُبَاعَ.
وَكَذَلِكَ بَلَغَنَا عَنِ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ أَنَّهُ قَالَ: لا بَأْسَ بِبَيْعِ الْكُفُرَّى عَلَى أَنْ يُقْطَعَ، فَبِهَذَا نَأْخُذُ
عمرہ بنت عبد الرحمن بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پھلوں کی فروخت سے منع فرمایا ہے۔ جب تک کہ وہ آفات سے محفوز نہ ہوجائیں۔
(اس روایت کو باب النہی عن بیع الثمار میں امام مالک لائے ہیں)
قول محمد (رح) یہ ہے : کہ یہ نامناسب ہے کہ پھلوں کو سرخ یا زرد ہونے سے پہلے درختوں پر فروخت کردیا جائے۔ جب وہ سرخ یا زرد ہوجائیں یا ان میں سے کچھ پک جائیں تو اس شرط بر ان کو فروخت کرنے میں کوئی حرج نہیں کہ تیار ہونے کے وقت تک انھیں درخت پر چھوڑ دے گا۔ چنانچہ اگر سرخ یا زرد نہ ہوا ہو یا سبز ہو یا ابھی نکلا نہ ہو تو اس شرط پر خریدنے میں کوئی بھلائی نہیں کہ پکنے کے وقت تک درخت پر ہی چھوڑ دے گا۔ لیکن کاٹ کر اگر کچا پھل فرخت کردے تو اس میں کوئی قباحت نہیں ہے۔ جس بصری (رح) سے ہمیں اس طرح روایت ملی ہے کہ فورا نکلے ہوئے پھل کو کاٹ کر فروخت کرنے میں کوئی برائی نہیں ہے۔ اسی کو ہم اختیار کرتے ہیں۔