hadith book logo

Muawtta Imam Muhammad: Hadith 764

.

موطأ الامام محمد

764
Muawtta Imam Muhammad
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ مَوْلَى الأَسْوَدِ بْنِ سُفْيَانَ، أَنَّ زَيْدًا أَبَا عَيَّاشٍ مَوْلًى لِبَنِي زُهْرَةَ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَأَلَ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ عَمَّنِ اشْتَرَى الْبَيْضَاءَ بِالسُّلْتِ؟ فَقَالَ لَهُ سَعْدٌ: أَيُّهُمَا أَفْضَلُ؟ قَالَ: الْبَيْضَاءُ، قَالَ: فَنَهَانِي عَنْهُ، وَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَمَّنِ اشْتَرَى التَّمْرَ بِالرُّطَبِ؟ فَقَالَ: «أَيَنْقُصُ الرُّطَبُ إِذَا يَبِسَ» ؟ قَالُوا: نَعَمْ، «فَنَهَى عَنْهُ» . قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهَذَا نَأْخُذُ، لا خَيْرَ فِي أَنْ يَشْتَرِيَ الرَّجُلُ قَفِيزَ رُطَبٍ بِقَفِيزٍ مِنْ تَمْرٍ، يَدًا بِيَدٍ، لأَنَّ الرُّطَبَ يَنْقُصُ إِذَا جَفَّ، فَيَصِيرُ أَقَلَّ مِنْ قَفِيزٍ، فَلِذَلِكَ فَسَدَ الْبَيْعُ فِيهِ
عبداللہ بن یزید بیان کرتے ہیں کہ بنی زہرہ کے غلام زید ابو عیاش نے مجھے بیان کیا کہ میں نے سعد بن ابی وقاص (رض) سے جو کہ غلہ کے بدلے فروخت کرنے کے متعلق دریافت کیا۔ سعد نے سوال کیا کہ ان میں سے بہتر کو نسان ہے ؟ میں نے کہا بیضا بہہتر ہے۔ تو سعد نے مجھے اس سے منع کردیا۔ اور کہا میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا جب کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے تر کھجور کے بدلے خشک کھجور خریدنے کا سوال کیا گیا ۔ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا۔ کیا تر کھجور خشک ہونے کے بعد کم ہوجاتی ہے ؟ لوگوں نے کہا۔ جی ہاں ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس طرح فروخت سے منع فرمایا۔ ( اس روایت کو باب ما یکرہ من بیع التمر میں امام مالک لائے ہیں)
قول محمد (رح) یہ ہے : ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں۔ اس میں کوئی بھلائی نہیں ہے کہ ایک شخص ایک قفیز تر کھجور کے دے کر ایک قفیز خشک کھجور کا لے۔ کیونکہ تر کھجور خشک ہو کر ایک قفیز سے کم رہ جائے گی۔ اس لیے یہ بیع فاسد ہوجاتی ہے۔