أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، حَدَّثَنَا نَافِعٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «مَنِ ابْتَاعَ طَعَامًا فَلا يَبِعْهُ حَتَّى يَقْبِضَهُ» .
قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهَذَا نَأْخُذُ، وَكَذَلِكَ كُلُّ شَيْءٍ بِيعَ مِنْ طَعَامٍ أَوْ غَيْرِهِ فَلا يَنْبَغِي أَنْ يَبِيعَهُ الَّذِي اشْتَرَاهُ حَتَّى يَقْبِضَهُ، وَكَذَلِكَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ، قَالَ: أَمَّا الَّذِي نَهَى عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ فَهُوَ الطَّعَامُ أَنْ يُبَاعَ حَتَّى يُقْبَضَ.
وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: وَلا أَحْسَبُ كُلَّ شَيْءٍ إِلا مِثْلَ ذَلِكَ.
فَبِقَوْلِ ابْنِ عَبَّاسٍ نَأْخُذُ، الْأَشْيَاءُ كُلُّهَا مِثْلُ الطَّعَامِ، لا يَنْبَغِي أَنْ يَبِيعَ الْمُشْتَرِي شَيْئًا اشْتَرَاهُ حَتَّى يَقْبِضَهُ، وَكَذَلِكَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ إِلا أَنَّهُ رَخَّصَ فِي الدُّورِ وَالْعَقَارِ وَالأَرَضِينَ الَّتِي لا تُحَوَّلُ أَنْ تُبَاعَ قَبْلَ أَنْ تُقْبَضَ، أَمَّا نَحْنُ فَلا نُجِيزُ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ حَتَّى يُقْبَضَ
نافع (رح) نے ابن عمر (رض) سے نقل کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا۔ حو شخص غلہ خریدے جب تک وہ قبضہ نہ کرے وہ اسے فروخت نہ کرے۔
قول محمد (رح) یہ ہے : ہمارا مختار یہی ہے۔ اسی طرح غلہ ہو یا اور کوئی چیز۔ مناسب نہیں کہ خرید کر قبضلہ کرنے کے بغیر اس کو فروخت کردیا جائے۔ ابن عباس (رض) نے بہی یہی کہا ہے کہ جس شے کو قبضہ سے پہـلے فروخت کرلے اس سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے منع فرمایا ہے اگرچہ یہ غلہ کے متعلق ہے مگر ہم تمام اشیاء کو اسی طرح تصور کرتے ہیں۔ تمام اشیاء ( منقولہ) کو خریدار کے قبضہ کرنے کے بغیر فروخت کرنا جائز نہیں ہے۔ امام ابوحنیفہ (رح) کا بہی یہی قول ہے۔ مگر انھوں نے غیر منقولہ اشیائ ( مکان، زمین وغیرہ) قبضہ سے پہلے فروخت کی اجازت دی ہے۔ مگر ہم ان چیزوں میں بھی کسی چیز کو قبضہ کے بغیر فروخت کرنا جائز نہیں سمجھتے۔