أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا أَبُو الزِّنَادِ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي صَالِحِ بْنِ عُبَيْدٍ مَوْلَى السَّفَّاحِ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ بَاعَ بَزًّا مِنْ أَهْلِ دَارِ نَخْلَةَ إِلَى أَجَلٍ، ثُمَّ أَرَادُوا الْخُرُوجَ إِلَى كُوفَةَ، فَسَأَلُوهُ أَنْ يَنْقُدُوهُ، وَيَضَعُ عَنْهُمْ، فَسَأَلَ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ، فَقَالَ: لا آمُرُكَ أَنْ تَأْكُلَ ذَلِكَ وَلا تُوَكِّلَهُ.
قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهَذَا نَأْخُذُ، مَنْ وَجَبَ لَهُ دَيْنٌ عَلَى إِنْسَانٍ إِلَى أَجَلٍ فَسَأَلَ أَنْ يَضَعَ عَنْهُ وَيُعَجِّلَ لَهُ مَا بَقِيَ لَمْ يَنْبَغِ ذَلِكَ، لأَنَّهُ يُعَجِّلُ قَلِيلا بِكَثِيرٍ دَيْنًا، فَكَأَنَّهُ يَبِيعُ قَلِيلا نَقْدًا بِكَثِيرٍ دَيْنًا.
وَهُوَ قَوْلُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، وَزَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ
ابو صالح بن عبید احمد اللہ نے بیان کیا کہ ہم نے دار نخلہ والوں سے ایک مقررہ وعدہ ٩ پر کپڑا خریدا۔ وہ کوفہ جانے لگے تو ان سے کہا اگر قیمت کچھ کم کردو تو نقد ادا کردیتا ہوں۔ پھر زید بن ثابت (رض) سے مسئفلہ دریافت کیا تو انھوں نے فرمایا میں تمہیں اس کے نہ کھانے کی اجازت دیتا ہوں اور نہ کھلانے کی۔ (اس روایت باب ماجاء فی الربا فی الدین میں امام مالک (رح) لائے ہیں)
قول محمد (رح) یہ ہے : ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں جس شخص پر کوئی قرض ہو۔ اور ادائیگی کی مدت مقرر ہو ار قرض دار کہے اگر تم کچھ کم کردو تو بقایا نقد ادا کردیتا ہوں تو یہ جائز نہیں کیونکہ جلدی جلدی کی غرض سے وہ زیادہ کی بجائے تھوڑا عوض لے گا گویا اس نے قرض کی عوض تھورا نقد خریدا۔ یہی امام ابوحنیفہ (رح) کا قول ہے۔