أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ، وَسُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ كَانَا يَكْرَهَانِ أَنْ يَبِيعَ الرَّجُلُ طَعَامًا إِلَى أَجَلٍ بِذَهَبٍ، ثُمَّ يَشْتَرِي بِذَلِكَ الذَّهَبِ تَمْرًا قَبْلَ أَنْ يَقْبِضَهَا.
قَالَ مُحَمَدٌّ: وَنَحْنُ لا نَرَى بَأْسًا أَنْ يَشْتَرِيَ بِهَا تَمْرًا قَبْلَ أَنْ يَقْبِضَهَا إِذَا كَانَ التَّمْرُ بِعَيْنِهِ، وَلَمْ يَكُنْ دَيْنًا.
وَقَدْ ذُكِرَ هَذَا الْقَوْلُ لِسَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، فَلَمْ يَرَهُ شَيْئًا، وَقَالَ: لا بَأْسَ بِهِ.
وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ، وَالْعَامَّةِ مِنْ فُقَهَائِنَا
ابو الزناد کہتے ہیں کہ سلیمان بن یسار اور سعید بن المسیب رحمہا اللہ اس بات کو ناپسند کرتے تھے۔ کہ کوئی شخص غلہ سونے کے عوض فروخت کرے پھر اس سونے پر قبضہ کرنے سے پہلے ہی کھجور خریدلے۔
(اس روایت کو امام مالک (رح) نے باب ما یکرہ من بیع الطعام الی اجل میں ذکر کیا ہے)
قول محمد (رح) یہ ہے : ہم اس میں کوئی حرج نہیں خیال کرتے کہ کوئی شخص قبضہ کرنے سے پہلے اس کے عوض کھجور خریدے۔ بشرطیکہ کھجور موجود ہو۔ اور ادھار نہ ہو۔ یہ قول سعید بن جبیر (رح) کا ہے۔ انھوں نے اس میں کوئی حرج نہیں سمجھا اور فرمایا کہ اس میں کچھ قباحت نہیں۔ یہی امام ابوحنیفہ اور ہمارے عام فقہاء کا قول ہے۔