hadith book logo

Muawtta Imam Muhammad: Hadith 771

.

موطأ الامام محمد

771
Muawtta Imam Muhammad
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا نَافِعٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «نَهَى عَنْ تَلَقِّي السِّلَعِ حَتَّى تَهْبِطَ الأَسْوَاقَ، وَنَهَى عَنِ النَّجَشِ» . قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهَذَا نَأْخُذُ، كُلُّ ذَلِكَ مَكْرُوهٌ، فَأَمَّا النَّجْشُ فَالرَّجُلُ يَحْضُرُ، فَيَزِيدُ فِي الثَّمَنِ، وَيُعْطِي فِيهِ مَا لا يُرِيدُ أَنْ يَشْتَرِيَ بِهِ لِيُسْمِعَ بِذَلِكَ غَيْرَهُ، فَيَشْتَرِيَ عَلَى سَوْمِهِ، فَهَذَا لا يَنْبَغِي، وَأَمَّا تَلَقِّي السِّلَعِ، فَكُلُّ أَرْضٍ كَانَ ذَلِكَ يَضُرُّ بِأَهْلِهَا، فَلَيْسَ يَنْبَغِي أَنْ يُفْعَلَ ذَلِكَ بِهَا، فَإِذَا كَثُرَتِ الأَشْيَاءُ بِهَا حَتَّى صَارَ ذَلِكَ لا يَضُرُّ بِأَهْلِهَا فَلا بَأْسَ بِذَلِكَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى
ابن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بیوپاریوں کو شہر سے باہر راستوں پر فروخت کرنے والوں کو ملنے سے منع فرمایا ہے۔ جب تک کہ وہ بازار میں نہ آجائے۔ دلالی ( خواہ مخواہ قیمت بڑھانے) سے منع فرمایا
(قول محمد (رح) یہ ہے : ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں، یہ تمام باتیں مکروہ ہیں۔ نجش یہ ہے کہ آدمی آ کر بولی دینے لگے تاکہ قیمت بڑھ جائے حالانکہ اس کا ارادہ خریدنے کا نہ ہو۔ تاکہ دوسرا خریدار اس کی بولی سن کر اس کی کہی ہوئی قیمت پر خرید لے۔ یہ بالکل نا مناسب ہے۔ ہاں تک شہر سے باہر جاکر بیوپار یوں کو ملنے کا تعلق ہے اگر اس سے شہر والوں کو نقصان ہوتا ہو تو ایسا نہ کرنا چاہیے اور اگر سامان کثرت سے میسر ہو اور شہر والوں کو نقصان کا کوئی اندیشہ نہ ہو تو کوئی حرج نہیں ان شاء اللہ تعالیٰ ۔