أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا نَافِعٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «نَهَى عَنْ بَيْعِ حَبَلِ الْحَبَلَةِ» .
وَكَانَ بَيْعًا يَبْتَاعُهُ الْجَاهِلِيَّةُ، يَبِيعُ أَحَدُهُمُ الْجَزُورَ إِلَى أَنْ تُنْتَجَ النَّاقَةُ، ثُمَّ تُنتَجُ الَّتِي فِي بَطْنِهَا.
قَالَ مُحَمَّدٌ: وَهَذِهِ الْبُيُوعُ كُلُّهَا مَكْرُوهَةٌ، وَلا يَنْبَغِي، لأَنَّهَا غَرَرٌ عِنْدَنَا، وَقَدْ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْغَرَرِ
نافع بیان کرتے ہیں کہ ابن عمر (رض) نے فرمایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حبل الحبلہ سے منع فرمایا۔ زمانہ جاہلیت میں اس بیع کا رواج عام ت ھا۔ کہ اس ایک شخص اس وعدے پر اونٹ خریتا تھا کہ جب اس کا بچہ ہوگا اور پھر اس بچے کا بچہ ہوگا تو اس وقت قیمت ادا کردوں گا۔ ( اس روایت کو امام مالک (رح) نے باب ما لا یجوز من بیع الحیوان میں ذکر کیا ہے)
قول محمد (رح) یہ ہے : بیع کی یہ تمام مذکورہ صورتیں مکروہ ( تحریمی) ہیں اس لیے کہ ہمارے نزدیک یہ تمام دھوکا کی صورتیں ہیں اور نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دہو کہ والی بیع سے منع فرمایا ہے۔