أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «نَهَى عَنْ بَيْعِ الْمُزَابَنَةِ، وَالْمُحَاقَلَةِ» .
وَالْمُزَابَنَةُ اشْتِرَاءُ الثَّمَرِ بِالتَّمْرِ، وَالْمُحَاقَلَةُ اشْتِرَاءُ الزَّرْعِ بِالْحِنْطَةِ، وَاسْتِكْرَاءُ الأَرْضِ بِالْحِنْطَةِ.
قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: سَأَلْتُ عَنْ كِرَائِهَا بِالذَّهَبِ وَالْوَرِقِ، فَقَالَ: لا بَأْسَ بِهِ
سعید بن المسیب بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بیع مزابنہ سے منع فرمایا ہے اور اسی طرح بیع محاقلہ سے منع فرمایا۔ مزابنہ یہ ہے کہ درخت کھجور کو کھجور کے بدلے خریدنا۔ اور محاقلہ یہ ہے گہتی کو گندم کے بدلے خریدنا اور گندم کے بدلے زمین کاشت کاری کے لیے بٹائی پر لینا۔ ابن شہاب کہتے ہیں کہ ہم نے اس سے سوال کیا کہ زمین کو بٹائی پر سونا چاندی کے بدلے لینا دینا کیسا ہے تو انھوں نے فرمایا اس میں کوئی حرج نہیں۔ ( یہ روایت بھی مندرجہ بالا باب میں مذکور ہے)