أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّهُ بَلَغَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «نَهَى عَنْ بَيْعِ الْحَيَوَانِ بِاللَّحْمِ» .
قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهَذَا نَأْخُذُ، مَنْ بَاعَ لَحْمًا مِنْ لَحْمِ الْغَنَمِ بِشَاةٍ حَيَّةٍ لا يُدْرَى اللَّحْمُ أَكْثَرُ، أَوْ مَا فِي الشَّاةِ أَكْثَرُ، فَالْبَيْعُ فَاسِدٌ مَكْرُوهٌ لا يَنْبَغِي.
وَهَذَا مِثْلُ الْمُزَابَنَةِ وَالْمُحَاقَلَةِ، وَكَذَلِكَ بَيْعُ الزَّيْتُونِ بِالزَّيْتِ، وَدُهْنُ السِّمْسِم بِالسِّمْسِمِ
سعید بن المسیب فرماتے ہیں کہ مجھے یہ روایت پہنچی ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے گوشت کے بدلے جانور فروخت کرنے کو منع فرمایا۔ ( ان آثار کو امام مالک نے باب بیع الحیوان باللحم میں ذکر فرمایا ہے)
قول محمد (رح) یہ ہے : ہم اسی کو اخیتار کرتے ہیں کہ اگر کسی شخص نے بکری کا گوشت زندہ بکری کے بدلہ میں فروخت کیا تو اسے معلوم نہیں کہ وہ گوشت جو اسے بکری سے ملے گا۔ زیادہ ہے یا کم۔ پس یہ بیع فاسد اور مکروہ ( تحریمی) ہے۔ اور یہ مزابنہ اور محاقلہ کی طرح ہے۔ اسی طرح زیتون کی بیع زیتون کے تیل کے عوض اور تل کی بیع تل کے تیل کے عوض فاسد ہے۔