أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ، كَانَ يُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «أَيُّمَا بَيِّعَانِ تَبَايَعَا، فَالْقَوْلُ قَوْلُ الْبَائِعِ، أَوْ يَتَرَادَّانِ» .
قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهَذَا نَأْخُذُ، إِذَا اخْتَلَفَا فِي الثَّمَنِ تَحَالَفَا وَتَرَادَّا الْبَيْعَ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ وَالْعَامَّةِ مِنْ فُقَهَائِنَا، إِذَا كَانَ الْمَبِيعُ قَائِمًا بِعَيْنِهِ، فَإِنْ كَانَ الْمُشْتَرِي قَدِ اسْتَهْلَكَهُ، فَالْقَوْلُ مَا قَالَ الْمُشْتَرِي فِي الثَّمَنِ فِي قَوْلِ أَبِي حَنِيفَةَ، وَأَمَّا فِي قَوْلِنَا فَيَتَحَالَفَانِ، وَيَتَرَادَّانِ الْقِيمَةَ
عبداللہ بن مسعود (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد نقل کرتے تھے کہ جب بائع اور مشتری کے دریمان اختلاف ہوجائے تو بائع کا قول معتبر ہوگا یا پھر دونوں اس کو رد کردیں۔ (اس روایت کو امام مالک (رح) نے باب بیع الخیار میں ذکر کیا ہے)
قول محمد (رح) یہ ہے : ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں۔ جب دونوں قیمت میں اختلاف ہکریں تو دونوں قسم کھائیں اور سودے کو رد کریں۔ امام ابوحنیفہ (رح) اور ہمارے عام فقہاء اسی طرح گئے ہیں۔ بشرطیکہ بیع اسی طرح قائم ہو اور اکر مشتری نے اس کو برباد کردیا تو اس وقت ثمن کے سلسلہ میں امام ابوحنیفہ (رح) کے ہاں مشتری کی بات معتبر مانی جائے گی۔ لیکن ہمارے نزدیک دونوں قسم کھائیں گے اور قیمت لوٹادیں گے۔