أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ مَرَّ عَلَى حَاطِبِ بْنِ أَبِي بَلْتَعَةَ وَهُوَ يَبِيعُ زَبِيبًا لَهُ بِالسُّوقِ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: إِمَّا أَنْ تَزِيدَ فِي السِّعْرِ، وَإِمَّا أَنْ تَرْفَعَ مِنْ سُوقِنَا.
قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهَذَا نَأْخُذُ، لا يَنْبَغِي أَنْ يُسَعَّرَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ، فَيُقَالُ لَهُمْ: بِيعُوا كَذَا وَكَذَا بِكَذَا وَكَذَا، وَيُجْبَرُوا عَلَى ذَلِكَ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ، وَالْعَامَّةِ مِنْ فُقَهَائِنَا
سعید بن المسیب بیان کرتے ہیں کہ عمر فاروق (رض) حاطب بن ابی بلتعہ (رض) کے پاس سے گزرے وہ بازر میں اپنے خشک انگور فروخت کر رہے تھے۔ ان سے حضرت عمر (رض) نے فرمایا تم قیمت بڑھاؤ یا ہمارے بازار سے اٹھ جاؤ۔ (کیونکہ وہ ام بازار کے نزخ سے کم نزخ پر فروخت کرتے تھے)
قول محمد (رح) یہ ہے : ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں کہ یہ جائز نہیں کہ مسلمان تاجروں پر کوئی نرخ مقرر کیا جائے اور ان کو کہا جائے کہ وہ اس نرخ بر فرخت کریں۔ یہی امام ابوحنیفہ (رح) اور ہمارے عام فقہاء کا قول ہے۔