hadith book logo

Muawtta Imam Muhammad: Hadith 789

.

موطأ الامام محمد

789
Muawtta Imam Muhammad
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا الزُّهْرِيُّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، " اشْتَرَى مِنِ امْرَأَتِهِ الثَّقَفِيَّةِ جَارِيَةً، وَاشْتَرَطَتْ عَلَيْهِ: إِنَّكَ إِنْ بِعْتَهَا فَهِيَ لِي بِالثَّمَنِ الَّذِي تَبِيعُهَا بِهِ، فَاسْتَفْتَى فِي ذَلِكَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، فَقَالَ: لا تَقْرَبْهَا، وَفِيهَا شَرْطٌ لأَحَدٍ. قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهَذَا نَأْخُذُ، كُلُّ شَرْطٍ اشْتَرَطَ الْبَائِعُ عَلَى الْمُشْتَرِي، أَوِ الْمُشْتَرِي عَلَى الْبَائِعِ لَيْسَ مِنْ شُرُوطِ الْبَيْعِ، وَفِيهِ مَنْفَعَةٌ لِلْبَائِعِ، أَوِ الْمُشْتَرِي، فَالْبَيْعُ فَاسِدٌ. وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ
عبید اللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے عبداللہ بن مسعود (رض) سے نقل کیا کہ انھوں نے اپنی بیوی زینب ثقفیہ (رض) عنہا سے ایک لوندی خریدی۔ بیوی نے یہ شرط لکائی کہ اگر تم نے اسے فروخت رکنا ہو تو جس قیمت پر فروخت کرنے لگو میرے ہاتھ فروخت کردینا۔ پھر اس سلسلہ میں حضرت عمر (رض) سے مسئلہ دریافت کیا تو انھوں نے فرمایا اس لونڈی سے صحبت نہ کرنا۔ جب کہ اس س میں کسی کی شرط لگی ہوئی ہو۔ حضرت عمر (رض) کے قول کا مطلب یہ تھا کہ بیع واپس کردو اور اس سودے سے کنارہ کشی یاختیار کرو چنانچہ کتاب میں امام محمد (رح) نے ذکر کیا کہ عبداللہ نے بیع سے رجوع کرکے اسے مسترد کردیا تھا۔ جیسا کہ اگلے اثر سے بھی ظاہر ہوتا ہے۔
قول محمد (رح) یہ ہے : ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں اگر فروخت کرنے والا خریدار سے یا خریدار فروخت کرنے والے سے کوئی ایسی شرط طے کرے جو بیع کے مقاصد سے نہ ہو اور اس میں ان میں سے کسی کو کوئی فاسدہ بہی نہ ہو تو وہ بیع فاسد ہے۔ یہی امام ابوحنیفہ (رح) کا قول ہے۔