أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا نَافِعٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: «لا يَطَأُ الرَّجُلُ وَلِيدَةً إِلا وَلِيدَتَهُ، إِنْ شَاءَ بَاعَهَا، وَإِنْ شَاءَ وَهَبَهَا، وَإِنْ شَاءَ صَنَعَ بِهَا مَا شَاءَ» .
قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهَذَا نَأْخُذُ، وَهَذَا تَفْسِيرٌ، أَنَّ الْعَبْدَ لا يَنْبَغِي أَنْ يَتَسَرَّى، لأَنَّهُ إِنْ وَهَبَ لَمْ يَجُزْ هِبَتُهُ، كَمَا يَجُوزُ هِبَةُ الْحُرِّ، فَهَذَا مَعْنَى قَوْلِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ وَالْعَامَّةِ مِنْ فُقَهَائِنَا
نافع (رح) نے ابن عمر (رض) سے روایت نقل کی ہے کہ وہ فرماتے تھے کہ آدمی اس لونڈی سے مباشرت کرے۔ جس کو وہ چاہے تو فروخت کردے اور چاہے تو ہبہ کردے اور اس کے متعلق جو چاہے سو کرسکتا ہو۔ ( مشروع نہ ہو) (ان دونوں روایات کو امام مالک نے باب ما یفعل فی الولیدہ میں ذکر کیا ہے)
قول محمد (رح) یہ ہے : کہ ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں اور اس کی وضاحت اس طرح ہے کہ غلام کو لونڈی رکھنا جائز نہیں کیونکہ اکر وہ اس کو ہبہ کرے تو اس کا ہبہ نافذ نہ ہوگا۔ جس طرح آزاد کا ہبہ نافذ ہوتا ہے۔ عبداللہ بن عمر (رض) کے قول کا یہی مطلب ہے اور یہی امام ابوحنیفہ (رح) اور ہمارے عام فقہاء کا قول ہے۔