أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا نُعَيْمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُجْمِرُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: " مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ وُضُوءَهُ، ثُمَّ خَرَجَ عَامِدًا إِلَى الصَّلاةِ، فَهُوَ فِي صَلاةٍ مَا كَانَ يَعْمِدُ، وَأَنَّهُ تُكْتَبُ لَهُ بِإِحْدَى خُطْوَتَيْهِ حَسَنَةٌ، وَتُمْحَى عَنْهُ بِالأُخْرَى سَيِّئَةٌ، فَإِنْ سَمِعَ أَحَدُكُمُ الإِقَامَةَ فَلا يَسْعَ، فَإِنَّ أَعْظَمَكُمْ أَجْرًا أَبْعَدُكُمْ دَارًا، قَالُوا: لِمَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ؟ قَالَ: مِنْ أَجْلِ كَثْرَةِ الْخُطَا "
نعیم بن عبداللہ الجمر کہتے ہیں کہ میں نے ابوہریرہ (رض) کو کہتے سنا کہ جس شخص نے خوب انداز سے وضو کیا پھر نماز کا قصد کرکے گھر سے نکلا تو وہ وقت قصد سے نماز کا ثواب پانے لگا۔ اس کے ہر قدم پر ایک نیکی لیھہ جاتی ہے اور دوسرا قدم اٹھانے پر ایک برائی مٹائی جاتی ہے۔ اگر چلنے کے دوران تم میں سے کوئی اقامت سن پائے تو وہ بالکل نہ دوڑے۔ تم سے دور گھر والا زیادہ ثواب حا حقدار ہے۔ شاکردوں نے سوال کیا حضرت ! یہ کیوں ؟ تو ابوہریرہ (رض) فرمانے لگے کیونکہ وہ مسجد کی طرف زیادہ قدم اٹھاکر آیا ہے۔