أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا نَافِعٌ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، «وَرَّثَ حَفْصَةَ دَارَهَا، وَكَانَتْ حَفْصَةُ قَدْ أَسْكَنَتْ بِنْتَ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ مَا عَاشَتْ، فَلَمَّا تُوُفِّيَتْ بِنْتُ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ قَبَضَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْمَسْكَنَ، وَرَأَى أَنَّهُ لَهُ» .
قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهَذَا نَأْخُذُ، الْعُمْرَى هِبَةٌ، فَمَنْ أُعْمِرَ شَيْئًا فَهُوَ لَهُ، وَالسُّكْنَى لَهُ عَارِيَةٌ تُرْجَعُ إِلَى الَّذِي أَسْكَنَهَا، وَإِلَى وَارِثِهِ مِنْ بَعْدِهِ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ، وَالْعَامَّةِ مِنْ فُقَهَائِنَا.
وَالْعُمْرَى أَنْ قَالَ هِيَ لَهُ وَلِعَقِبِهِ، أَوْ لَمْ يَقُلْ وَلِعَقِبِهِ فَهُوَ سَوَاءٌ
نافع (رح) بیان کرتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر (رض) حضرت حفصہ (رض) عنہا کے وارث ہوئے اور وہ زید بن خطاب کی بیٹی کو اپنا گھر اپنی زند کی میں دے گئی تھیں۔ جب زید بن خطاب کی بیٹی فوت ہوگئیں تو ابن عمر (رض) نے مکان اپنے قبضہ میں لے لیا۔ اور یہ خیال کیا کہ اب میں اس گھر کا مالک ہوں۔ (دونوں روایات باب القضاء فی العمری میں امام مالک نے ذکر کی ہیں)
قول محمد (رح) یہ ہے : ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں۔ عمری وہ عطیہ جو تا حیات دیا جائے۔ وہ جس کو دیا جائے اسی کا ہوجاتا ہے۔ سکنی سے مراد عارضی رہائش ہے، جو بطور عاریبت دی جائے۔ وہ اس کے بعد اصل مالک کی طرف منتقل ہوجائے گا۔ امام ابو حنیفہ اور ہمارے عام فقہاء کا یہی قول ہے۔
العمری یہ ہے کہ اس کو کہے کہ تیری عمر کے لیے تمہیں دیا جاتا ہے اور تیری اولاد کے لیے ۔ اگر تیری اولاد۔ نہ بہی کہے تب بھی درست ہے۔