أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ , أَنَّهُ الْتَمَسَ صَرْفًا بِمِائَةِ دِينَارٍ، وَقَالَ: فَدَعَانِي طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، فَقَالَ: فَتَرَاوَضْنَا حَتَّى اصْطَرَفَ مِنِّي، فَأَخَذَ طَلْحَةُ الذَّهَبَ يُقَلِّبُهَا فِي يَدِهِ، ثُمَّ قَالَ: حَتَّى يَأْتِيَنِي خَازِنِي مِنَ الْغَابَةِ، وَعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَسْمَعُ كَلامَهُ، فَقَالَ: لا، وَاللَّهِ لا تُفَارِقْهُ حَتَّى تَأْخُذَ مِنْهُ، ثُمَّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الذَّهَبُ بِالْفِضَّةِ رِبًا إِلا هَاءَ وَهَاءَ، وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ رِبًا إِلا هَاءَ وَهَاءَ، وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ رِبًا إِلا هَاءَ وَهَاءَ»
الک بن اوس بن حدثان بصری نے بتلایا کہ مجھے سو دینار کے درہم لینے کی ضرورت پیش آئی تو مجھے طلحہ بن عبداللہ نے بلایا۔ ہم دونوں رضا مند ہوگئے۔ طلحہ نے مجھ سے دینار لے لیے اور انھیں اپنے ہاتھ سے الٹ پلٹ کرنے ل کے پھر کہا انتظار کرو کہ میرا خزانجی مقام غابہ سے آجائے۔ حضرت عمر (رض) یہ سن رہے تھے۔ انھوں نے فرمایا اللہ کی قسم۔ تم طلحہ کو بغیر مال لیے نہ چھوڑنا۔ پھر کہنے لگے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ سونے کو چاندی کے عوض ، کھچور کو کھجور کے عوض اور جو کو جو کے بدلے فروخت کرنا اضافہ سے ( ربوہ ہے مگر اس وقت ربا نہیں جبکہ ) دست بدست ہو ( اور اضافہع نہ ہو) ( اس روایت کو امام مالک نے باب ما جاء فی الصرف میں ذکر کیا ہے) اس روایت سے جمہور کی تائید ہوتی ہے کہ جو اور گندم الگ الگ اجناس ہیں پس تفاضل جائز ہے۔ حضرت عمر (رض) نے یہ بات بطور تاکید فرمائی ہے۔ بعض دراہم کے کھوٹے ہونے سے بیع صرف جمہور کے ہاں باطل نہیں۔