أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، أَوْ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ، أَنَّ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ، بَاعَ سِقَايَةً مِنْ وَرِقٍ، أَوْ ذَهَبٍ بِأَكْثَرَ مِنْ وَزْنِهَا، فَقَالَ لَهُ أَبُو الدَّرْدَاءِ: «سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْ مِثْلِ هَذَا إِلا مِثْلا بِمِثْلٍ» ، قَالَ لَهُ مُعَاوِيَةُ: مَا نَرَى بِهِ بَأْسًا، فَقَالَ لَهُ أَبُو الدَّرْدَاءِ: مَنْ يَعْذِرُنِي مِنْ مُعَاوِيَةَ، أُخْبِرُهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيُخْبِرُنِي عَنْ رَأْيِهِ، لا أُسَاكِنُكَ بِأَرْضٍ أَنْتَ بِهَا، قَالَ: فَقَدِمَ أَبُو الدَّرْدَاءِ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، فَأَخْبَرَهُ، فَكَتَبَ إِلَى مُعَاوِيَةَ أَنْ لا يَبِيعَ ذَلِكَ إِلا مِثْلا بِمِثْلٍ، أَوْ وَزْنًا بِوَزْنٍ
زید بن اسلم (رح) نے عطاء بن یسار یا سلیمان بن یسار سے نقل کیا کہ معاویہ بن ابی سفیان (رض) نے سونے یای چاندے برتن اس کے وزن سے زائد کے بلدے فروخت کیا تو ان سے ابو درداء نے کہا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس قسم کی خریدو فروخت سے منع فرمایا ہے۔ سوائے اس صورت کے کہ دونوں برابر برابر ہوں۔ معاوہی (رض) کہنے لگے میرے نزدیک اس میں کوئی مضائقہ نہیں۔ ابو درداء (رض) کنے لگے ۔ امیر معاویہ (رض) کے مقابلہ میں میرا عذر کون قبول کرے گا۔ میں ان کے سامنے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حدیث پیش کررہا ہوں اور وہ مجھے اپنے رائے بتلاتے ہیں۔ میں اس سرزمین میں نہ رہوں گا جہاں تم ہو۔ پھر ابو درداء (رض) مدینہ منورہ آگئے اور حضرت عمر (رض) کے ہاں یہ واقعہ ذکر کیا۔ انھوں نے امیر معاویہ (رض) کو لکھا کہ اس طرح فروخت نہ کریں بلکہ برابر، برابر یا ہم وزن فروخت کریں۔ ( اس روایت کو امالک نے باب بیع الذہب بالفضہ میں ذکر کیا ہے) امیر معاویہ (رض) کا ممکن ہے یہ اجتہاد ہو یا ڈھلائی کو اس میں داخل کرکے اضافہ تجویز کیا ہو۔ انھوں نے ابو درداء سے تفصیل سے بات نہ کی بظاہرا نص کے تقابل کی وجہ سے وہ ناراض ہوگئے۔ امیر عمر (رض) نے آئندہ کی ممانعت کی مگر سابقہ بیع کو رد نہ کیا۔ کیونکہ امیر معاویہ (رض) نے تاویل سے یہ کیا تھا۔