hadith book logo

Muawtta Imam Muhammad: Hadith 817

.

موطأ الامام محمد

817
Muawtta Imam Muhammad
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُسَيْطٍ اللَّيْثِيُّ، أَنَّهُ رَأَى سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ، يُراطِلُ الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ، قَالَ: فَيُفَرِّغُ الذَّهَبَ فِي كِفَّةِ الْمِيزَانِ، وَيُفَرِّغُ الآخَرُ الذَّهَبَ فِي كِفَّتِهِ الْأُخْرَى، قَالَ: ثُمَّ يَرْفَعُ الْمِيزَانَ، فَإِذَا اعْتَدَلَ لِسَانُ الْمِيزَانِ أَخَذَ وَأَعْطَى صَاحِبَهُ. قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهَذَا كُلِّهِ نَأْخُذُ عَلَى مَا جَاءَتِ الآثَارُ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ، وَالْعَامَّةِ مِنْ فُقَهَائِنَا
یزید لیثی (رح) نے سعید بن المسیب کو دیکھا کہ وہ سونے کو سونے کے بدلے فروخت کرتے ہیں۔ وہ سونا ترازو کے ایک پلڑے میں رکھتے ہیں ہیں پھر ترازو اٹھاتے ہیں۔ جب ترازوکا کانٹا برابر ہوجاتا ہے تو دوسرے کا سونا لے لیتے اور اپنا سونا اسے دے دیتے ہیں۔ ( اس روایت کو امام مالک نے باب المراطلہ میں ذکر کیا ہے) (مراطلہ : سونے کی بیع سونے کے بدلے اور چاندی کی بیع چاندی کے بدلے وزن کرکے مراطلہ کہلاتی ہے۔ بیع مراطلہ کے متعلقہ امام مالک، امام ابوحنیفہ میں اختلاف نہیں بلکہ یہ درست ہے)
قول محمد (رح) یہ ہے : کہ ان تمام پر ہمارا عمل ہے۔ یہی امام ابوحنیفہ (رح) اور ہمارے عام فقہاء کا قول ہے۔