أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، حَدَّثَنَا نَافِعٌ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ امْرَأَةً كَانَتْ تُهْرَاقُ الدَّمَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاسْتَفْتَتْ لَهَا أُمُّ سلَمَةَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «لِتَنْظُرِ اللَّيَالِيَ وَالأَيَّامَ الَّتِي كَانَتْ تَحِيضُ مِنَ الشَّهْرِ قَبْلَ أَنْ يُصِيبَهَا الَّذِي أَصَابَهَا، فَلْتَتْرُكِ الصَّلاةَ قَدْرَ ذَلِكَ مِنَ الشَّهْرِ، فَإِذَا خَلَّفَتْ ذَلِكَ، فَلْتَغْتَسِلْ ثُمَّ لِتَسْتَثْفِرْ بِثَوْبٍ فَلْتُصَلِّ» .
قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهَذَا نَأْخُذُ، وَتَتَوَضَّأُ لِوَقْتِ كُلِّ صَلاةٍ، وَتُصَلِّي إِلَى الْوَقْتِ الآخَرِ، وَإِنْ سَالَ دَمُهَا، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ
ام المؤمنین ام سلمہ (رض) عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عہد مں ر ایک عورت کو بہت خون آتا تھا۔ پس اس کی خاطر ام سلمہ (رض) عنہا نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فتوی دریافت کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اگر وہ مہینے کے ان دن راتوں کو دیکھے جن میں اسے حیض آتا ہے جبکہ وہ اس بیماری میں مبتلا نہ ہوئی تھی۔ پھر مہینے میں ان دنوں کی مقدار نماز کو ترک کردے۔ جب وہ ان ایام کو گزار لے تو غسل کرے اور ایک کپڑے کا لنگوٹ باندھے پھر نماز ادا کرے۔ (یہ حدیث مؤطاء امام مالک میں باب المستحاضہ میں مذکور ہے)
قول محمد (رح) یہ ہے : ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں کہ وہ ہر نماز کے لیے نیا وضو کرے اور وقت کے آخر تک نماز پڑھتی رہے۔ خواہ اس دوران اس کا خون بہتا رہے ۔ امام ابوحنیفہ (رح) کا بھی یہی قول ہے۔