hadith book logo

Muawtta Imam Muhammad: Hadith 822

.

موطأ الامام محمد

822
Muawtta Imam Muhammad
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، أَنَّهُ سَمِعَ جَمِيلًا الْمُؤَذِّنَ، يَقُولُ لِسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ: إِنِّي رَجُلٌ أَشْتَرِي هَذِهِ الأَرْزَاقَ الَّتِي يُعْطِيهَا النَّاسُ بِالْجَارِ، فَأَبْتَاعُ مِنْهَا مَا شَاءَ اللَّهُ، ثُمَّ أُرِيدُ أَنْ أَبِيعَ الطَّعَامَ الْمَضْمُونَ عَلَيَّ إِلَى ذَلِكَ الأَجَلِ، فَقَالَ لَهُ سَعِيدٌ: أَتُرِيدُ أَنْ تُوَفِّيَهُمْ مِنْ تِلْكَ الأَرْزَاقِ الَّتِي ابْتَعْتَ؟ قَالَ: نَعَمْ، فَنَهَاهُ عَنْ ذَلِكَ. قَالَ مُحَمَّدٌ: لا يَنْبَغِي لِلرَّجُلِ إِذَا كَانَ لَهُ دَيْنٌ أَنْ يَبِيعَهُ حَتَّى يَسْتَوْفِيَهُ، لأَنَّهُ غَرَرٌ، فَلا يُدْرَى، أَيَخْرُجُ أَمْ لا يَخْرُجُ؟ . وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ
یحییٰ نے سناء کہ جمیل مؤذن سعید بن المسیب (رح) کو کہہ رہے تھے کہ میں ان غلہ جات کو جو لوگوں کے لیے مقرر ہیں۔ مقام جار میں خرید تا ہوں پھر میں چاہتا ہوں کہ اس غلہ کو ایک میعاد مقرر کرکے فروخت کردوں تو سعید نے کیا تو ایسا چاہتا ہے کہ تو لوگوں کو اس غلہ سے ادائیگی کرے جو تو نے یخریدا ہے۔ جمیل نے کہا ہاں۔ سعید بن المسیب نے جمیل کو اس سے روک دیا۔ ( ممانعت کی وجہ بیع قبل القبض ہے) (اس روایت کو باب العینہ و ما یشبہہا میں ذکر کیا ہے)
قول محمد (رح) یہ ہے : کہ کسی کو جائز نہیں کہ وہ قبضہ کئے بغیر قرض والی چیز کو فروخت کرے۔ جب تک اسے ہاتھ میں مل نہ جائے کیونکہ اس میں دھوکا ہے۔ اسے کیا معلوم کہ وہ پورا وصول ہوگا یا نہیں۔ یہی امام ابوحنیفہ (رح) کا قول ہے۔