hadith book logo

Muawtta Imam Muhammad: Hadith 834

.

موطأ الامام محمد

834
Muawtta Imam Muhammad
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ الضَّحَّاكَ بْنَ خَلِيفَةَ سَاقَ خَلِيجًا لَهُ حَتَّى النَّهْرِ الصَّغِيرِ مِنَ الْعُرَيْضِ، فَأَرَادَ أَنْ يَمُرَّ بِهِ فِي أَرْضٍ لِمُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَةَ، فَأَبَى مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ، فَقَالَ الضَّحَّاكُ: لِمَ تَمْنَعُنِي، وَهُوَ لَكَ مَنْفَعَةٌ تَشْرَبُ بِهِ أَوَّلا وَآخِرًا، وَلا يَضُرُّكَ، فَأَبَى، فَكَلَّمَ فِيهِ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ، فَدَعَا مُحَمَّدَ بْنَ مَسْلَمَةَ، فَأَمَرَهُ أَنْ يُخَلِّيَ سَبِيلَهُ، فَأَبَى، فَقَالَ عُمَرُ: لِمَ تَمْنَعُ أَخَاكَ مَا يَنْفَعُهُ، وَهُوَ لَكَ نَافِعٌ تَشْرَبُ بِهِ أَوَّلا وَآخِرًا، وَلا يَضُرُّكَ؟ قَالَ مُحَمَّدٌ: لا وَاللَّهِ، فَقَالَ عُمَرُ: وَاللَّهِ لَيَمُرَّنَّ بِهِ وَلَوْ عَلَى بَطْنِكَ. فَأَمَرَهُ عُمَرُ أَنْ يُجْرِيَهُ
یحییٰ روایت کرتے ہیں کہ ضحاک بن خلیفہ (رح) نے وادی عریض میں ایک چھوٹی نہر نکالی۔ اسے محمد بن مسلمہ (رض) نے زمین میں سے گزارنا چاہا۔ تو محمد بن مسلمہ (رض) نے انکار کیا۔ ضحاک نے کہا مجھے انکار نہ کرو اس میں تمہارا فائدہ ہے۔ اس میں شروع میں بھی پانی لوگے اور آخر میں بھی پانی لگے۔ اور تمہارا نقصان کچھ بھی نہیں ۔ اس نے پھر انکار کیا۔ ضحاک نے اس سلسلہ میں حضرت عمر (رض) سے بات چیت کی۔ تو آپ نے محمد بن مسلمہ (رض) کو بلا بھیجا وہ آئے تو ان کو فرمایا اسے راستہ دے دو ۔ انھوں نے انکار کیا۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا اپنے بھائی کو اس کام سے منع نہ کرو جو تمہارے لیے بہی نفع بخش ہے۔ تو اول بھی پانی لو کے اور آخر میں بہی پانی لوکی۔ اور اس میں تمہارا کوئی نقصان نہیں محمد بن مسلمہ (رض) نے کہا اللہ کی قسم ! ہرگز نہیں۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا۔ اللہ کی قسم وہ نہر بنائی جائے گی۔ خواہ تمہارے پیت پر سے ( گزارنی پڑے) پہر حضرت عمر (رض) نے محمد بن مسلمہ (رض) کو نہر نکالنے کا حکم دیا ور ( ضحاک نے نہر نکال لی) ( اس روایت کو باب القضاء فی المرفق میں امام مالک (رح) نے ذکر کیا ہے) بقول ابو الولید امام مالک و ابوحنیفہ رحمہا اللہ نے حضرت عمر کے فیصلہ کو اختیار نہیں کیا۔ اور ان کا یہ اجتہادی حکم ان کے زمانہ کی مناسب تھا۔ بعد کے زمانہ کے موافق نہ تھا۔