أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى الْمَازِنِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ كَانَ فِي حَائِطِ جَدِّهِ رَبِيعٌ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، فَأَرَادَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ أَنْ يُحَوِّلَهُ إِلَى نَاحِيَةٍ مِنَ الْحَائِطِ هِيَ أَرْفَقُ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَأَقْرَبُ إِلَى أَرْضِهِ، فَمَنَعَهُ صَاحِبُ الْحَائِطِ، فَكَلَّمَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَضَى لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بِتَحْوِيلِهِ
یحییٰ بیان کرتے ہیں کہ میرے والد کے باغ میں سے ہو کر عبد الرحمن بن عوف (رض) کی ایک چھوٹی سے نہر گزرتی تھی عبد الرحمن نے چاہا کہ اس نہر کو باغ کی دوسری جانب منتقل کریں اور وہ جانب ان کی زمیان سے قریب تھی۔ اور اس سے سیراب کرنا بھی يسان تھاد لیکن باغ کے مالک یعنی مرے دادا نے انھیں اس بات سے روکا۔ تو عبد الرحمن بن عوف (رض) نے حضرت عمر (رض) سے یہ ماجرا بیان کیا د تو انھوں نے عبد الرحمن کو اس کے منتقل کرنے کی اجازت دے دی۔ اس روایت کو باب القضاء فی المرافق میں ذکر کیا ہے) امام مالک و شافعی و ابوحنیفہ نے اس رائے کو اختارر نہیں کیا۔ حضرت عمر (رض) نے اپنے حالات زمانہ کے مناسب یہ فیصلہ فرمایا۔ اور حالات ایک طریق پر نہیں رہتے۔ آج کل لوگ پانی گزار کر ملکیت کے مدعی بن جاتے ہیں۔