hadith book logo

Muawtta Imam Muhammad: Hadith 843

.

موطأ الامام محمد

843
Muawtta Imam Muhammad
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا الزُّهْرِيُّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ عُتْبَةُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ عَهِدَ إِلَى أَخِيهِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ أَنَّ ابْنَ وَلِيدَةِ زَمْعَةَ مِنِّي، فَاقْبِضْهُ إِلَيْكَ، قَالَتْ: فَلَمَّا كَانَ عَامُ الْفَتْحِ أَخَذَهُ سَعْدٌ، وَقَالَ: ابْنُ أخِي، قَدْ كَانَ عَهِدَ إِلَيَّ أَخِي فِيهِ، فَقَامَ إِلَيْهِ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ، فَقَالَ: أَخِي، وَابْنُ وَلِيدَةِ أَبِي، وُلِدَ عَلَى فِرَاشِهِ، فَتَسَاوَقَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ سَعْدٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ابْنُ أَخِي، قَدْ كَانَ عَهِدَ إِلَيَّ فِيهِ أَخِي عُتْبَةُ، وَقَالَ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ: أَخِي، ابْنُ وَلِيدَةِ أَبِي، وُلِدَ عَلَى فِرَاشِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هُوَ لَكَ يَا عَبْدُ بْنَ زَمْعَةَ، ثُمَّ قَالَ: «الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرِ» ، ثُمَّ قَالَ لِسَوْدَةَ بِنْتِ زَمْعَةَ: احْتَجِبِي مِنْهُ لِمَا رَأَى مِنْ شَبَهِهِ بِعُتْبَةَ، فَمَا رَآهَا حَتَّى لَقِيَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهَذَا نَأْخُذُ، الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ، وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ. وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ، وَالْعَامَّةِ مِنْ فُقَهَائِنَا
عروہ بن زبیر روایت کرتے ہیں کہ حضرت عائشہ (رض) عنہا نے فرمایا۔ کہ عتبہ بن ابی وقاص نے اپنے بھائی سعد بن ابی وقاص کو وصیت کی کہ زمعہ کی لونڈی کا بیٹا میرے نطفہ سے ہے۔ تم اسے اپنے پاس رکھو۔ حضرت عائشہ (رض) عنہا نے کہتی ہیں کہ فتح مکہ کے دن سعد نے اسے اپنے قبضہ میں لے لیا۔ اور کہا کہ یہ میرا بھتیجا ہے۔ اس کے متعلق میرے بھائی نے وصیت کی تھی۔ عبد بن زمعہ نے دعوی کیا کہ یہ میرا بھائی ہے۔ اور میرے والد کی لوندی کا بیٹا ہے۔ اور اس کے بستر پر پیدا ہوا ہے۔ دونوں نے اپنا معاملہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں پیش کیا۔ سعد نے کہا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ میرا بھتیجا ہے۔ اس کے متعلق میرے بھائی نے وصیت کی تھی۔ عبد بن زمعہ بولے کہ یہ میرا بھائی ہے۔ میرے والد کی لونڈی کا بیٹا ہے۔ اور اس کے بستر پر پیدا ہوا ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا۔ اے عبد بن زمعہ ! یہ تمہارا ہے۔ پھر فرمایا۔ لڑکا اس کا ہوتا ہے جس کے بستر پر پیدا ہو اور زانے کے لیے پتھر ہیں ( یعنی سنگساری کی سزا کا حق دار ہے) پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ن سودہ بنت زمعہ (رض) عنہا سے فرمایا۔ تم اس سے پردہ کیا کرو۔ اس لیے کہ اس لڑکے کی مشابہت عتبہ سے محسوس ہوتی ہے۔ چنانچہ حضرت سودی (رض) عنہا نے اس کو نہیں دیکھا (ہمیشہ پردہ کرتی رہیں) یہاں تک کہ فوت ہوگئیں۔ ( اس روایت کو باب القضاء بلحاق الولد بابیہ میں ذکر کیا گیا ہے)
قول محمد (رح) یہ ہے : کہ ہم اس کو اختیار کرتے ہیں بچہ اسی کا ہے جس کے بستر پر پیدا ہوا اور زانی کو سنگسار کیا جائے ۔ یہی امام ابوحنیفہ (رح) اور ہمارے عام فقہاء کا قول ہے۔