أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا دَاوُدُ بْنُ الْحُصَيْنِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا غَطَفَانَ بْنَ طَرِيفٍ الْمُرِّيَّ، يَقُولُ: اخْتَصَمَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ، وَابْنُ مُطِيعٍ فِي دَارٍ إِلَى مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ، فَقَضَى عَلَى زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ بِالْيَمِينِ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَقَالَ لَهُ زَيْدٌ: أَحْلِفُ لَهُ مَكَانِي، فَقَالَ لَهُ مَرْوَانُ: لا وَاللَّهِ إِلا عِنْدَ مَقَاطِعِ الْحُقُوقِ، قَالَ: فَجَعَلَ زَيْدٌ يَحْلِفُ أَنَّ حَقَّهُ لَحَقٌّ، وَأَبَى أَنْ يَحْلِفَ عِنْدَ الْمِنْبَرِ، فَجَعَلَ مَرْوَانُ يَعْجَبُ مِنْ ذَلِكَ ". قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِقَوْلِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ نَأْخُذُ، وَحَيْثُمَا حَلَفَ الرَّجُلُ فَهُوَ جَائِزٌ، وَلَوْ رَأَى زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ أَنَّ ذَلِكَ يَلْزَمُهُ مَا أَبَى أَنْ يُعْطِيَ الْحَقَّ الَّذِي عَلَيْهِ، وَلَكِنَّهُ كَرِهَ أَنْ يُعْطِيَ مَا لَيْسَ عَلَيْهِ، فَهُوَ أَحَقُّ أَنْ يُؤْخَذَ بِقَوْلِهِ، وَفِعْلِهِ مِمَّنِ اسْتَحْلَفَهُ
ابو غطفان بن طریف مری کہتے ہیں کہ زید بن ثابت اور ابن مطیع (رض) کا ایک مکان کے سلسلہ میں جھگڑا ہوا مروان بن الحکم (حاکم مدینہ) نے زید بن ثابت کے لیے فیصلہ کیا وہ منبر نبوی کے قریب قسم کھائیں۔ زید نے کہا میں یہیں قسم کھاؤں گا۔ مرواننی کہا اللہ کی قسم نہیں ! جہاں مقدمات کے فیصلے کئے جاتے ہیں وہاں قسم کھاؤ۔ اوب غطفان کہتے ہیں کہ زید بن ثابت (رض) نے اپنے دعوے کے حق میں قسم کھائی۔ لیکن منبر نبوی کے قریب قسم کھانے سے انکار کیا۔ مروان کو اس بات پر تعجب ہوا۔ ( اس روایت کو باب جامع ما جاء فی الیمین علی المنبر میں امام مالک نے ذکر کیا ہے)
قول محمد (رح) یہ ہے : کہ ہم زید بن ثابت کے قول پر عمل کرتے ہیں۔ کہ آدمی جہاں بہی قسم گہائے جائز ہے۔ اگر زید بن ثابت ( منبر کے قریب حلف کو ) ضروری قرار دیتے تو اس کا انکار نہ کرتے۔ وہ اس حق کو دے دیتے جو ان کے ذمہ بنتا تھا۔ لیکن انھوں نے اس حق کو دینا ناپسند جو ان کے ذمہ بنتا ہی نہ تھا۔ پس وہ اس بات کے زیادہ حق دار ہیں کہ ان کے قول و فعل کی اتباع کی جائے ان لوگوں کی نسبت جنہوں نے ان سے قسم طلب کی تھی۔