hadith book logo

Muawtta Imam Muhammad: Hadith 850

.

موطأ الامام محمد

850
Muawtta Imam Muhammad
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، أَنَّهُ قَالَ: سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ، يُحَدِّثُ أَنَّ ثَابِتَ بْنَ ضَحَّاكٍ الأَنْصَارِيَّ، حَدَّثَهُ أَنَّهُ وَجَدَ بَعِيرًا بِالْحَرَّةِ، فَعَرَّفَهُ، ثُمَّ ذَكَرَ ذَلِكَ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَأَمَرَهُ أَنْ يُعَرِّفَهُ، قَالَ ثَابِتٌ لِعُمَرَ: قَدْ شَغَلَنِي عَنْهُ ضَيْعَتِي، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: أرْسِلْهُ حَيْثُ وَجَدْتَهُ ". قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهِ نَأْخُذُ، مَنِ الْتَقَطَ لُقَطَةً تُسَاوِي عَشَرَةَ دَرَاهِمَ فَصَاعِدًا عَرَّفَهَا حَوْلا، فَإِنْ عُرِفَتْ، وَإِلا تَصَدَّقَ بِهَا، فَإِنْ كَانَ مُحْتَاجًا أَكَلَهَا، فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا خَيَّرَهُ بَيْنَ الأَجْرِ وَبَيْنَ أَنْ يَغْرَمَهَا لَهُ، وَإِنْ كَانَ قِيمَتُهَا أَقَلَّ مِنْ عَشَرَةِ دَرَاهِمَ عَرَّفَهَا عَلَى قَدْرِ مَا يَرَى أَيَّامًا، ثُمَّ صَنَعَ بِهَا كَمَا صَنَعَ بِالأُولَى، وَكَانَ الْحُكْمُ فِيهَا إِذَا جَاءَ صَاحِبُهَا كَالْحُكْمِ فِي الأُولَى، وَإِنْ رَدَّهَا فِي الْمَوْضِعِ الَّذِي وَجَدَهَا فِيهِ بَرِئَ مِنْهَا، وَلَمْ يَكُنْ عَلَيْهِ فِي ذَلِكَ ضَمَانٌ
یحییٰ بن سعید کہتے ہیں کہ میں نے سعید بن یسار (رح) کو بیان کرتے سنا۔ کہ ثابت بن ضحاک انصاری نے بیان کیا۔ کہ میں نے مقام حسرہ میں ایک اونٹ پایا۔ اس کی تشہیر کی۔ پھر حضرت عمر فاروق (رض) سے اس کا تذکرہ کیا تو آپ نے حکم دیا اس کی تشہیر کرو۔ ثابت کہنے لگے۔ میں اس سے اپنے کام کاج سے مجبور ہوجاؤں گا۔ میر زیمن اس بات سے مجھے مشغول کرنے والی ہے۔ حضرت عمررضی اللہ عنہ نے فرمایا پھر اسے جہاں تم نے پایا وہیں چھوڑ دو ۔ اس روایت کو امام مالک (رح) باب القضاء فی الضوال میں ذکر کیا ہے)
قول محمد (رح) یہ ہے : کہ ہم اسی کو مختار قرار دیتے ہیں۔ کہ اگر کسی شخص کو کوئی گری پڑی چیز مال جائے ۔ جس کی قیمت دس درہم ہو یا اس سے زیادہ ہو تو اسک سال اس کی تشہیر کرے۔ ( مالک مل جائے تو فبہا) ورنہ اسے خیرات کردے۔ اگر خود محتاج ہو۔ تو اسے کھالے۔ پھر اکر اس کا مالک آجائے تو اسے اختیار ہے کہ وہ اس کی قیمت لے یا ویسی ہی کوئی چیز لے لے۔ اور اکر قیمت دس درہم سے کم ہو تو جتنے دن مناسب خیال کرے اس کی تشہرکرے پھر اس سلسلہ میں ویسے ہی کرے جیسے پہلے کے ساتھ کیا ( خیرات کردے) اکر مالک آجائے تو اس کا حکم وہی ہوگا۔ جو پہلے کا ہے۔ اگر اس جگہ چھوڑ آئے جہاں سے پایا تھا تو وہ اس سے بری الذمہ ہوجائے گا۔ اس پر کوئی ذمہ دار ی نہ ہوگی۔