أَخْبَرَنَا مَالِكٌ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ مُسْنِدٌ ظَهْرَهُ إِلَى الْكَعْبَةِ: مَنْ أَخَذَ ضَالَّةً فَهُوَ ضَالٌّ.
قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهَذَا نَأْخُذُ، وَإِنَّمَا يَعْنِي بِذَلِكَ مَنْ أَخَذَهَا لِيَذْهَبَ بِهَا، فَأَمَّا مَنْ أَخَذَهَا لِيَرُدَّهَا، أَوْ لِيُعَرِّفَهَا، فَلا بَأْسَ بِهِ
سعید بن المسیب بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے فرمایا جبکہ وہ خانہ کعبہ سے تکیہ لگائے بیٹھے تھے۔ جس نے گم شدہ چیز اٹھالی وہ خود گمراہ ہے ( اس روایت کو امام مالک نے باب القضاء فی الضوال میں ذکر کیا ہے)
قول محمد (رح) یہ ہے : کہ ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں۔ حضرت عمر (رض) کے قول کا منشاء یہ ہے کہ جو اسے کھاپی جانے کی غرض اور ارادہ سے اٹھائے ( وہ گمراہ ہے) جو واپس کرنے یا مشتہر کرنے کے ارادہ سے اٹھائے اسے کوئی حرج نہیں۔