أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ قَيْسٍ الْمَكِّيُّ، أَنَّ مُكَاتَبًا لابْنِ الْمُتَوَكِّلِ هَلَكَ بِمَكَّةَ، وَتَرَكَ عَلَيْهِ بَقِيَّةً مِنْ مُكَاتَبَتِهِ، وَدُيُونِ النَّاسِ، وَتَرَكَ ابْنَةً، فَأَشْكَلَ عَلَى عَامِلِ مَكَّةَ الْقَضَاءُ فِي ذَلِكَ، فَكَتَبَ إِلَى عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَرْوَانَ يَسْأَلُهُ عَنْ ذَلِكَ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ عَبْدُ الْمَلِكِ أَنِ ابْدَأْ بِدُيُونِ النَّاسِ فَاقْضِهَا، ثُمَّ اقْضِ مَا بَقِيَ عَلَيْهِ مِنْ مُكَاتَبَتِهِ، ثُمَّ اقْسِمْ مَا بَقِيَ مِنْ مَالِهِ بَيْنَ ابْنَتِهِ، وَمَوَالِيهِ.
قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهَذَا نَأْخُذُ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ، وَالْعَامَّةِ مِنْ فُقَهَائِنَا، أَنَّهُ إِذَا مَاتَ بُدِئَ بِدُيُونِ النَّاسِ، ثُمَّ بِمُكَاتَبَتِهِ، ثُمَّ مَا بَقِيَ كَانَ مِيرَاثًا لِوَرَثَتِهِ الأَحْرَارِ مَنْ كَانُوا
حمید بن قیس مکی بیان کرتے ہیں کہ ابن متوکل کا ایک مکاتب غلام مکہ مکرمہ میں فوت ہوگیا۔ اس کے ذمہ کجھ بدل کتابت باقی تھا۔ اور لوکوں کا قراض بھی تھا۔ اس نے ایک بیٹی چھوڑی۔ حاکم مکہ کو اس کا فیصلہ کرنا مشکل ہو کیا تو اس نے عبد الملک بن مروان کو اس سلسلہ میں دریافت کے لیے تحریر کیا۔ عبد الملک نے جواب دیا۔ لوگوں کا قرض ادا کرو۔ پھر مکاتبت کی جس قدر رقم باقی ہے۔ وہ ادا کرو۔ اس کے بعد اس کے مال میں سے جو رقم بچ جائے وہ اس کی ب یتی اور موالی کے درمیان تقسیم کردو۔ ( اس روایت کو باب القضاء فی المکاتب میں امام مالک (رح) نے درج کیا ہے) اخرجہ البخاری و نسائی و ابن ماجہ)
قول محمد (رح) یہ ہے : کہ ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں۔ یہی امام ابوحنیفہ اور ہمارے عام فقہاء کا قول ہے کہ جب مکاتب فوت ہوجائے تو پہلے لوگوں کا قرض ادا کرو پھر بدل کتابت ۔ اس کے بعد جو بچ جائے اس میں وارثوں کا حق ہوگا خواہ وہ کوئی ۔