أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا ابْنُ شِهَابٍ، أَنَّهُ سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ، يَقُولُ: إِنَّ الْقَصْوَاءَ نَاقَةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَتْ تَسْبِقُ كُلَّمَا وَقَعَتْ فِي سِبَاقٍ، فَوَقَعَتْ يَوْمًا فِي إِبِلٍ، فَسُبِقَتْ، فَكَانَتْ عَلَى الْمُسْلِمِينَ كَآبَةٌ أَنْ سُبِقَتْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ النَّاسَ إِذَا رَفَعُوا شَيْئًا، أَوْ أَرَادُوا رَفْعَ شَيْءٍ وَضَعَه اللَّهُ» .
قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهَذَا نَأْخُذُ، لا بَأْسَ بِالسَّبْقِ فِي النَّصْلِ، وَالْحَافِرِ، وَالْخُفِّ
ابن شہاب بیان کرتے ہیں کہ سعید بن المسیب (رح) کو میں نے یہ کہتے سنا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ناقہ قصواء دوڑتی ہوئی آگے نلک جاتی تھی۔ ایک دن دوڑ میں پیجھے رہ گئی۔ تو مسلمانوں کو اس کے پیچھے رہ جانے سے بہت صدمہ ہوا۔ اس پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا۔ جب لوگ کسی چیز کو بلند کرتے یا بلند کرنا چاہتے ہیں تو اللہ تعالیٰ اس کو نیچا کردیتا ہے۔
قول محمد (رح) یہ ہے : کہ ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں۔ کہ تیر اندازی، سم والے جانور ( گھوڑے ، خچر، گدھے وغیرہ) اور موزے والے جانور (اونٹ وغیرہ ) کی دوڑ اور مقابلہ میں کوئی حرج نہیں۔