أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ قَالَ: «مَا ظَهَرَ الْغُلُولُ فِي قَوْمٍ قَطُّ إِلا أُلْقِيَ فِي قُلُوبِهِمُ الرُّعْبُ، وَلا فَشَا الزِّنَا فِي قَوْمٍ قَطُّ إِلا كَثُرَ فِيهِمُ الْمَوْتُ، وَلا نَقَصَ قَوْمٌ الْمِكْيَالَ وَالْمِيزَانَ إِلا قُطِعَ عَلَيْهِمُ الرِّزْقُ، وَلا حَكَمَ قَوْمٌ بِغَيْرِ الْحَقِّ إِلا فَشَا فِيهِمُ الدَّمُ، وَلا خَتَرَ قَوْمٌ بِالْعَهْدِ إِلا سُلِّطَ عَلَيْهِمُ الْعَدُوُّ»
یحییٰ بن سعید ابن عباس (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ جس قوم میں مال غنیمت کے اندر چوری کا رواج ہوجائے۔ اللہ تعالیٰ ان کے دلوں میں رعب ڈال دیتا ہے۔ جس قوم میں زنا کی کثرت ہوجائے تو ان میں موت زیادہ واقع ہونے لگتی ہے۔ اور جو قوم ماپ تول میں کمی کرتی ہے۔ اس کے رزق میں کمی ہوجاتی ہے۔ جو قوم ناحق فیصلے کرتی ہی۔ اس میں خون ریزی عام ہوجاتی ہے۔ اور جو قوم عہد شکنی شروع کردتی ہے۔ اس پر دشمن مسلط کردیا جاتا ہے ( ذکر ابن ماجہ موصولا)