hadith book logo

Muawtta Imam Muhammad: Hadith 862

.

موطأ الامام محمد

862
Muawtta Imam Muhammad
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «بَعَثَ سَرِيَّةً قِبَلَ نَجْدٍ، فَغَنِمُوا إِبِلا كَثِيرَةً، فَكَانَ سُهْمَانُهُمُ اثْنَيْ عَشَرَ بَعِيرًا، وَنُفِّلُوا بَعِيرًا بَعِيرًا» . قَالَ مُحَمَّدٌ: كَانَ النَّفْلُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُنَفِّلُ مِنَ الْخُمُسِ أَهْلَ الْحَاجَةِ، وَقَدْ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: {قُلِ الأَنْفَالُ لِلَّهِ وَالرَّسُولِ} [الأنفال: 1] ، فَأَمَّا الْيَوْمَ فَلا نَفَلَ بَعْدَ إِحْرَازِ الْغَنِيمَةِ إِلا مِنَ الْخُمُسِ لِمُحْتَاجٍ
نافع (رح) نے ابن عمر (رض) سے بیان کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نجد کی طرف ایک چھوٹا لشکر روانہ فرمایا۔ وہ بہت سے اونٹ مال غنیمت لایا۔ ہر ایک کے حصہ میں بارہ بارہ اونٹ آئے اور ایک ایک اونٹ انعام میں ملا۔
قول محمد (رح) یہ ہے : کہ نفل یہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا خاص حق تھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خمس میں سے صرف ضرورت مندوں دیا کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا۔ قل الانفال للہ و الرسول ۔ مکر اب مال غنیمت کے جمع کرنے کے بعد اس میں سے انفال نہ ہوگا۔ صرف محتاجوں کے لیے خمس اس میں سے دیا جائے گا۔
السیر مغازی اور جہاد کے متعلق چیزوں پر بولا جاتا ہے