أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «يَخْرُجُ فِيكُمْ قَوْمٌ تَحْقِرُونَ صَلاتَكُمْ مَعَ صَلاتِهِمْ، وَأَعْمَالَكُمْ مَعَ أَعْمَالِهِمْ، يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لا يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ، يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ مُرُوقَ السَّهْمِ مِنَ الرَّمِيَّةِ، تَنْظُرُ فِي النَّصْلِ فَلا تَرَى شَيْئًا، تَنْظُرُ فِي الْقِدْحِ فَلا تَرَى شَيْئًا، تَنْظُرُ فِي الرِّيشِ فَلا تَرَى شَيْئًا، وَتَتَمَارَى فِي الْفُوقِ» .
قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهَذَا نَأْخُذُ، لا خَيْرَ فِي الْخُرُوجِ، وَلا يَنْبَغِي إِلا لُزُومُ الْجَمَاعَةِ
ابو موسیٰ بن عبد الرحمن نے ابو سعید الخدری (رض) سے نقل کیا کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا۔ تم میں سے ایک ایسی قوم پیدا ہوگی۔ کہ تم اپنی نمازوں کو ان کی نمازوں کے مقابلے میں اپنے اعمال کو ان کے اعمال کے مقابلے میں حقیر قرار دوگے۔ وہ قرآن مجید پڑھیں گیٔ ٧۔ لیکن وہ قرآن مجید ان کے حلق سے نیجے نہ اترے گا۔ وہ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر کمان سے نلک جاتا ہے۔ تمہیں ان کے تیر کے پھل میں کجھ خون نظر نہ آئے گا۔ جب تم تیر کے پچھلے حصے میں دیکھوگے تو کچھ بھی نظر نہ آئے گا۔ جب تیر کے پر کو دیکھو وہاں بہی کجہ نظر نہ آئے گا۔ تمہیں تسمہ باندھنے کی جگہ شک سا پڑے گا۔ ( یعنی ان پر دین کے عقائد اعمال کا کو وئی اثر نظر نہ آئے گا)
قول محمد (رح) یہ ہے : ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں۔ امام ( حق) کے خلاف خروج و بغاوت میں کوئی خیر نہیں۔ مناسب یہ ہے کہ امت مسلمہ کی اجتماعیت کو بر قرار رکھاجائے۔