أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، أَخْبَرَتْنِي عَمْرَةُ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا وَهِيَ تَشْتَكِي، وَيَهُودِيَّةٌ تَرْقِيهَا، فَقَالَ: «ارْقِيهَا بِكِتَابِ اللَّهِ» .
قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهَذَا نَأْخُذُ، لا بَأْسَ بِالرُّقَى بِمَا كَانَ فِي الْقُرْآنِ، وَمَا كَانَ مِنْ ذِكْرِ اللَّهِ، فَأَمَّا مَا كَانَ لا يُعْرَفُ مِنْ كَلامٍ، فَلا يَنْبَغِي أَنْ يُرْقَى بِهِ
عمرہ بنت عبد الرحمن (رض) عنہا کہتی ہیں کہ حضرت ابوبکر (رض) حضرت عائشہ صدیقہ ر ضی اللہ عنہا کے پاس آتے جبکہ وہ بیمار تھیں اور ایک یہودی عورت ان پر جھاڑ پھونک کر رہی تھی۔ حضرت ابوبکر (رض) نے فرمایا اللہ تعالیٰ کی کتاب میں سے پڑھ کر پھونک مار۔ ( اس اثر کو امام مالک (رح) نے باب تعالج المریض میں ذکر کیا ہے)
قول محمد یہ ہے : کہ ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں۔ قرآن پڑھ کر دم کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے یا جو اللہ تعالیٰ کے ذکر سے ہو لیکن لا یعنی کلام سے جھاڑ پھونک کر ناجائز نہیں۔