أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، أَنَّ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ أَخْبَرَهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ بَيْتَ أُمِّ سَلَمَةَ وَفِي الْبَيْتِ صَبِيٌّ يَبْكِي، فَذَكَرُوا أَنَّ بِهِ الْعَيْنَ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَفَلا تَسْتَرْقُونَ لَهُ مِنَ الْعَيْنِ؟» .
قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهِ نَأْخُذُ، لا نَرَى بِالرُّقْيَةِ بَأْسًا إِذَا كَانَتْ مِنْ ذِكْرِ اللَّهِ تَعَالَى
یحییٰ بن سعید نے سلیمان یسار (رح) سے نقل کیا کہ عروہ بن زبیر نے بیان کیہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ام سلمہ (رض) عنہا کے گھر تشریف لے گئے۔ گھر میں ایک بچہ رو رہا تھا۔ لوگوں نے بیان کیا اسے نظر بد لگ گئی ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اس پر نظر بد کا دم کیونکر نہیں کرتے ہو۔ ( اس اثر کو باب الرقیہ من العین میں امام مالک (رح) نے ذکر کیا ہے)
قول محمد (رح) یہ ہے : کہ ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں۔ ہم جھاڑ پھونک میں کوئی مضائقہ نہیں سمجھتے۔ بشرطیکہ ذکر الہی سے ہو۔