أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أُتِيَ بِشَرَابٍ فَشَرِبَ مِنْهُ، وَعَنْ يَمِينِهِ غُلامٌ، وَعَنْ يَسَارِهِ أَشْيَاخٌ، فَقَالَ لِلْغُلامِ: أَتَأْذَنُ لِي فِي أَنْ أُعْطِيَهُ هَؤُلاءِ؟ فَقَالَ: لا وَاللَّهِ، لا أُوثِرُ بِنَصِيبِي مِنْكَ أَحَدًا، قَالَ: فَتَلَّهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَدِهِ "
ابو حازم (رح) سے سہل بن سعد ساعدی (رض) سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد نقل کیا کہ آپ کی خدمت میں کوئی مشروب لایا گیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے نوش فرمایا آپ کے دائیں جانب ایک لڑکا تھا اور بائیں جانب بوڑھے بزرگ بیٹھے تھے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اگر تم اجازت دو تو میں پہلے ان بزرگوں کو دے دوں۔ اس نے کہا نہیں۔ اللہ کی قسم نہیں۔ میں اپنے حصہ والے آپ کے تبرک میں سے کسی کو نہ دوں گا۔ سہل کہتے ہیں کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس لڑکے کو عنایت فرمادیا۔ (اس روایت کو امام مالک نے باب السنۃ فی الشرب و مناولۃ عن الیمین میں ذکر کیا ہے)