أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا صَفْوَانُ بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَسْتَأْذِنُ عَلَى أُمِّي؟ قَالَ: «نَعَمْ» ، قَالَ الرَّجُلُ: إِنِّي مَعَهَا فِي الْبَيْتِ، قَالَ: «اسْتَأْذِنْ عَلَيْهَا» ، قَالَ: إِنِّي أَخْدُمُهَا، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أتُحِبُّ أَنْ تَرَاهَا عُرْيَانَةً؟» قَالَ: لا، قَالَ: «فَاسْتَأْذِنْ عَلَيْهَا» .
قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهَذَا نَأْخُذُ، الاسْتِئْذَانُ حَسَنٌ، وَيَنْبَغِي أَنْ يَسْتَأْذِنَ الرَّجُلُ عَلَى كُلِّ مَنْ يَحْرُمُ عَلَيْهِ النَّظَرُ إِلَى عَوْرَتِهِ وَنَحْوِهَا
صفوان بن سلیم کہتے ہیں کہ عطاء بن یسار (رح) نے نقل کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ایک شخص نے دریافت کیا اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! کیا میں گھر میں داخل ہونے کے لیے اپنی والدہ سے بھی اجازت حاصل کروں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا۔ جی ہاں ! اس نے عرض کیا میں گھر میں ان کے ساتھ رہتا ہوں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا۔ ان سے اجازت حاصل کرو۔ اس نے عرض کیا میں تو ان کی خدمت گزاری کرتا ہوں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا۔ کیا تم اسے برہنہ دیکھنا پسند کرتے ہو ؟ اس نے عرض کیا نہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا پس ( اسی لیے ) ان سے اجازت لے کر داخل ہوا کرو (اس روایت کو امام مالک نے باب الاستیذان میں ذکر فرمایا ہے)
قول محمد (رح) یہ ہے : کہ اجازت لے کر داخل ہونا بہت ہی خوب ہے۔ مناسب تو یہ ہے کہ ہراس فرد سے اجازت لے کر داخل ہو۔ جس کے ستر پر نگاہ ڈالنا اس کے لیے روانہ ہو۔