أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا أَبُو النَّضْرِ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَهَ بْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى أَبِي طَلْحَةَ الأَنْصَارِيِّ يَعُودُهُ، فَوَجَدَ عِنْدَهُ سَهْلَ بْنَ حُنَيْفٍ، فَدَعَا أَبُو طَلْحَةَ إِنْسَانًا يَنْزِعُ نَمَطًا تَحْتَهُ، فَقَالَ سَهْلُ بْنُ حُنَيْفٍ: لِمَ تَنْزِعُهُ؟ قَالَ: لأَنَّ فِيهِ تَصَاوِيرُ، وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ فِيهَا مَا قَدْ عَلِمْتَ، قَالَ سَهْلٌ: أَوَ لَمْ يَقُلْ إِلا مَا كَانَ رَقْمًا فِي ثَوْبٍ؟ قَالَ: بَلَى، وَلَكِنَّهُ أَطْيَبُ لِنَفْسِي، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهَذَا نَأْخُذُ، مَا كَانَ فِيهِ مِنْ تَصَاوِيرَ مِنْ بِسَاطٍ يُبْسَطُ أَوْ فِرَاشٍ يُفْرَشُ أَوْ وِسَادَةٍ فَلا بَأْسَ بِذَلِكَ، إِنَّمَا يُكْرَهُ مِنْ ذَلِكَ فِي السِّتْرِ، وَمَا يُنْصَبُ نَصْبًا.
وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ، وَالْعَامَّةِ مِنْ فُقَهَائِنَا
ابو النضر مولی عبداللہ بن عبید اللہ نے عبداللہ بن عتبہ بن مسعود (رح) کے متعلق بیان کیا کہ وہ حضرت ابو طلحہ انصاری (رض) کی عیادت کو گئے۔ ان کے پاس سہل بن حنیف (رض) بھی موجود تھے۔ ابو طلحہ (رض) نے اس وقت ایک شخص کو بلایا کہ وہ ان کے نیچے سے گرہ کھینچ لں ر۔ سہل بن حنیف (رض) نے پوچھا گرہ کیوں کر کھینچتے ہو۔ انھوں نے جواب دیا کہ اس میں تصاویر ہیں۔ اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے متعلق ارشاد فرمایا جو کچھ کہ فرمایا وہ تم لوگ جانتے ہوئے۔ سہل نے کہا کیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ نہیں فرمایا، مگر یہ کہ کپڑے کے اندرنقش ہوں ؟ ابو طلحہ (رض) نے کہا لیکن میری خوشی اسی بات میں ہے۔ ( کہ اس کو میرے نیچے سے نکال لیا جائے) ( اس روایت کو باب ما جاء فی الصورو التماثیل میں امام مالک (رح) نے ذکر کیا ہے)
قول محمد (رح) یہ ہے : کہ ہم اسی کو اختیار کرنے والے ہیں۔ اگر بچھائی جانے والی دری یا فرش پر تصاویر بنی ہوئی ہوں یا تکیہ پر ہوں تو ان میں کو مضائقہ نہیں۔ لیکن پردوں اور لٹکانے والے کپڑوں، نصب شدہ چیزوں پر منع ہیں۔ امام ابوحنیفہ (رح) اور ہمارے عام فقہاء کا یہی قول ہے۔