أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حِبَّانَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ، قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعَتَيْنِ، وَعَن لِبْسَتَيْنِ، وَعَنْ صَلاتَيْنِ، وَعَنْ صَوْمِ يَوْمَيْنِ، فَأَمَّا الْبَيْعَتَانِ: الْمُنَابَذَةُ وَالْمُلامَسَةُ، وَأَمَّا اللِّبْسَتَانِ: فَاشْتِمَالُ الصَّمَّاءِ وَالاحْتِبَاءُ بِثَوْبٍ وَاحِدٍ كَاشِفًا عَنْ فَرْجِهِ، وَأَمَّا الصَّلاتَانِ: فَالصَّلاةُ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسِ، وَالصَّلاةُ بَعْدَ الصُّبْحِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، وَأَمَّا الصِّيَامَانِ: فَصِيَامُ يَوْمِ الأَضْحَى وَيَوْمِ الْفِطْرِ ".
قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهَذَا كُلِّهِ نَأْخُذُ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ
عبد الرحمن الاعرج (رح) نے ابوہریرہ (رض) سے روایت نقل کی کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نمبر ١۔ دو قسم کی خریدو فروخت سے منع فرمایا۔ نمبر ٢۔ دو قسم کے لباس سے منع فرمایا۔ نمبر ٣۔ دو نمازوں سے روکا۔ نمبر ٤۔ دو روزوں سے منع کیا۔
دو قسم کی خریدو فروخت یہ ہے نمبر ١ منابذہ۔ نمبر ٢۔ ملامسہ۔
دو ممنوع لباس یہ ہیں : نمبر ١۔ اشتمال الصماء۔ نمبر ٢۔ حتباء ایک ایسے کپڑے میں لپٹنا جس سے شرمگاہ کھل جائے۔
دو نمازیں جو ممنوع ہیں۔ عصر کی نماز سے غروب آفتاب تک نماز پڑھنا۔ نمبر ٢ فجر کی نماز کے بعد طلوع آفتاب تک نماز پڑھنا۔
دو ممنوع روزے یہ ہیں : نمبر ١ عبد الفطر نمبر ٢۔ عبد قربانی کا روزہ۔ ( منابذہ کنکری پھینک کر جس چیز پر کنکری پڑے یہ جاہلیت کی بیع تھی۔ ملامسہ جس چیز کو ہاتھ لگ جائے وہ میری یہ بھی جاہلیت کی بیع تھی۔ اشتمال الصماء : پورے جسم پر کپڑا لپیٹنا کہ ہاتھ اس کے اندر ڈھنپ جائیں اور شرمگاہ اور ہاتھوں کے درمیان کوئی کپڑا حائل نہ ہو)
قول محمد (رح) یہ ہے : کہ ان تمام پر ہمارا عمل ہے۔ امام ابوحنیفہ (رح) کا قول یہی ہے۔