hadith book logo

Muawtta Imam Muhammad: Hadith 927

.

موطأ الامام محمد

927
Muawtta Imam Muhammad
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، أَنَّهُ سَمِعَ الْقَاسِمَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَسْلَمَ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ يَقُولُ: خَرَجْتُ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ وَهُوَ يُرِيدُ الشَّامَ، حَتَّى إِذَا دَنَا مِنَ الشَّامِ أَنَاخَ عُمَرُ، وَذَهَبَ لِحَاجَةٍ، قَالَ أَسْلَمُ: فَطَرَحْتُ فَرْوَتِي بَيْنَ شِقَّيْ رَحْلِي، فَلَمَّا فَرَغَ عُمَرُ عَمَدَ إِلَى بَعِيرِي، فَرَكِبَهُ عَلَى الْفَرْوَةِ، وَرَكِبَ أَسْلَمُ بَعِيرَهُ، فَخَرَجَا يَسِيرَانِ حَتَّى لَقِيَهُمَا أَهْلُ الأَرْضِ، يَتَلَقَّوْنَ عُمَرَ، قَالَ أَسْلَمُ: فَلَمَّا دَنَوْا مِنَّا أَشَرْتُ لَهُمْ إِلَى عُمَرَ، فَجَعَلُوا يَتَحَدَّثُونَ بَيْنَهُمْ، قَالَ عُمَرُ: تَطْمَحُ أَبْصَارُهُمْ إِلَى مَرَاكِبِ مَنْ لا خَلاقَ لَهُمْ، يُرِيدُ مَرَاكِبَ الْعَجَمِ
قاسم بیان کرتے ہیں کہ میں نے اسلم ( جو عمر (رض) کے آزاد کردہ غلام تھے) سے سنا کہ میں حضرت عمر رضی ارللہ عنہ کے ساتھ نکلا۔ ان کا ارادہ شام جانے کا تھا۔ ہم شام کے قریب علاقہ میں پہنچے تو حضرت عمر (رض) نے اپنی سواری بٹھائی اور رفع حاجت کے لیے تشریف لے گئے۔ میں نے اپنی گودڑی پھینکی اور اپنے کجاوے پر رکھ دی۔ جب آپ فارغ ہو کر تشریف لائے تو میرے اونٹ کی طرف رخ کیا اور اس پر سوال ہوگیا۔ اور ہم دونوں روانہ ہوگئے۔ یہاں تک کہ ہمیں اس علاقہ کے لوگ آملے۔ جو آپ کے استقبال کو آئے تھے۔ جب وہ ہمارے قریب آئے۔ تو میں نے ان کو اشارہ سے بتلایا کہ امیر المؤمنین عمر (رض) وہ ہیں۔ وہ آپس میں چہ میگوئیاں کرنے لگے۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا۔ یہ لوگ ان سواروں کے انتظار میں ہیں۔ جن کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔ ( اس سے مراد حضرت عمر (رض) کی ( عجمی حکام کا استقبال کرنے والے اور حکام مراد تھے۔ کہ جن کی نگاہ میں اسلامی مملکت کا سربراہ اسی ٹھاٹھ باٹھ والا ہوگا) عجمی بادشاہوں کی ٹھا تھا والی سواریاں مراد تھیں۔