أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا أَبُو الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَيْسَ الْمِسْكِينُ بِالطَّوَّافِ الَّذِي يَطُوفُ عَلَى النَّاسِ، تَرُدُّهُ اللُّقْمَةُ وَاللُّقْمَتَانِ، وَالتَّمْرَةُ وَالتَّمْرَتَانِ، قَالُوا: فَمَا الْمِسْكِينُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: الَّذِي مَا عِنْدَهُ مَا يُغْنِيهِ، وَلا يُفْطَنُ لَهُ فَيُتَصَدَّقُ عَلَيْهِ، وَلا يَقُومُ فَيَسْأَلُ النَّاسَ ".
قَالَ مُحَمَّدٌ: هَذَا أَحَقُّ بِالْعَطِيَّةِ، وَأَيُّهُمَا أَعْطَيْتَهُ زَكَاتَكَ أَجْزَاكَ ذَلِكَ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ، وَالْعَامَّةِ مِنْ فُقَهَائِنَا
عبد الرحمن اعرج (رح) نے ابوہریرہ (رض) سے نقل کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا۔ مسکین وہ نہیں جو گھر گھر پھرتا ہے اور اس کو لوگ ایک دو لقمہ یا ایک دو کھجور دے دیتے ہیں۔ صحابہ کرام (رض) عنہم نے سوال کیا مسکین کون ہے ؟ تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا۔ مسکین وہ جس کے پاس اتنا نہ ہو کہ جو اس کو مستغنی کرسکے اور نہ لوگ اس کو غریب خیال کرتے ہوں کہ اس پر صدقہ ہی کردیں۔ اور نہ وہ لوگوں کے سامنے مانگنے کھڑا ہو۔
قول محمد (رح) یہ ہے : یہ شخص عطیہ کا سب سے زیادہ حقدار ہے۔ ان میں سے جس کو تم زکوۃ دو تو تمہارے لیے دینا جائز ہے۔ اور یہی امام ابوحنیفہ (رح) کا قول ہے۔ اور ہمارے عام فقہاء اسی طرف گئے ہیں۔