أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الأَسْوَدِ بْنِ عَبْدِ يَغُوثَ، كَانَ جَلِيسًا لَنَا، وَكَانَ أَبْيَضَ اللِّحْيَةِ وَالرَّأْسِ، فَغَدَا عَلَيْهِمْ ذَاتَ يَوْمٍ، وَقَدْ حَمَّرَهَا، فَقَالَ لَهُ الْقَوْمُ: هَذَا أَحْسَنُ، فَقَالَ: إِنَّ أُمِّي عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْسَلَتْ إِلَيَّ الْبَارِحَةَ جَارِيَتَهَا نُخَيْلَةَ، فَأَقْسَمَتْ عَلَيَّ لأَصْبِغَنَّ، فَأَخْبَرَتْنِي أَنَّ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَانَ يَصْبُغُ، قَالَ مُحَمَّدٌ: لا نَرَى بِالْخِضَابِ بِالْوَسَمَةِ، وَالْحِنَّاءِ، وَالصُّفْرَةِ بَأْسًا، وَإِنْ تَرَكَهُ أَبْيَضَ، فَلا بَأْسَ بِذَلِكَ، كُلُّ ذَلِكَ حَسَنٌ
ابو سلمہ بن عبد الرحمن نے بیان کیا کہ عبد الرحمن بن اسود ہمارے پاس اٹھتا بیٹھتا تھا۔ ان کی ڈاڑھی اور سر کے بال سفید ت ہے۔ ایک دن صبح آئے تو ان کے بال سرخ تھے۔ لوگوں نے ان سے کہا کہ یہ اچھا ہے۔ وہ کہنے لگے میری ماں عائشہ صدیقہ (رض) عنہا نے کل رات اپنی لوندی نخیلہ کے ذریعہ قسم کے ساتھ تاکیدی پیغام بھیجا کہ میں بالوں میں ضرور خضاب لگاؤں۔ انھوں نے مجھے خبر دی کہ ابوبکر (رض) خضاب لگاتے تھے۔ ( اس روایت کو امام مالک نے باب ما جاء فی صبغ الشعر میں ذکر کیا ہے)
قول محمد (رح) یہ ہے : ہمارے ہماں وسمہ، مہندی اور زرد رنگ سے خضاب کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں۔ اور اگر اسے سفید رہنے دیا جائے تو بھی اس میں کوئی حرج نہیں۔ تمام صورتیں خوب ہیں۔