hadith book logo

Muawtta Imam Muhammad: Hadith 937

.

موطأ الامام محمد

937
Muawtta Imam Muhammad
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ، يَقُولُ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَقَالَ لَهُ: إِنَّ لِي يَتِيمًا، وَلَهُ إِبِلٌ، فَأَشْرَبُ مِنْ لَبَنِ إِبِلِهِ؟ قَالَ لَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ: إِنْ كُنْتَ تَبْغِي ضَالَّةَ إِبِلِهِ، وَتَهْنَأُ جَرْبَاهَا، وَتَلِيطُ حَوْضَهَا، وَتَسْقِيهَا يَوْمَ وِرْدِهَا، فَاشْرَبْ غَيْرَ مُضِرٍّ بِنَسْلٍ، وَلا نَاهِكٍ فِي حَلْبٍ. قَالَ مُحَمَّدٌ: بَلَغَنَا أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ذَكَرَ وَالِيَ الْيَتِيمِ، فَقَالَ: إِنِ اسْتَغْنَى اسْتَعَفَّ، وَإِنِ افْتَقَرَ أَكَلَ بِالْمَعْرُوفِ قَرْضًا. بَلَغَنَا عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ فَسَّرَ هَذِهِ الآيَةَ {وَمَنْ كَانَ غَنِيًّا فَلْيَسْتَعْفِفْ وَمَنْ كَانَ فَقِيرًا فَلْيَأْكُلْ بِالْمَعْرُوفِ} [النساء: 6] ، قَالَ: قَرْضًا
قاسم بن محمد فرماتے ہیں کہ ایک شخص ابن عباس (رض) کی خدمت میں آیا۔ اور ان سے کہنے لگا میری کفالت میں ایک یتیم لڑکا ہے۔ اس کے اونٹ ہیں پس میں اس کے اونٹوں سے دودھ پیتا ہوں ابن عباس (رض) نے فرمایا اگر تم اس کے گم شدہ اونٹ تلاش کرتے ہو اور خارش زدہ کا علاج معالجہ کرتے ہو اور اس کا حوض لیپ پوت کرکے پانے کے دن پانی پلاتے ہو تو تم اس طرح پیو کہ اونٹ کی نسل ضائع نہ ہو۔ اور اونٹنی دودھ کی وجہ سے کمزوری کا شکار نہ ہوجائے۔
قول محمد (رح) یہ ہے : کہ ہمیں عمر بن خطاب (رض) سے خبر ملی ہے کہ آپ نے یتیم کے نگران کا ذکر فرمایا اور ارشاد فرمایا۔ اکر وہ مالدار ہے تو بچتا رہے۔ اور اگر غریب ہے تو معروف طریقہ سے قرض لے کر کھائے۔ سعید بن جبیر (رح) سے یہ بات معلوم ہوئی کہ حضرت عمر (رض) نے قرآن مجید کی اس يیت کی تفسیر کی ہے۔ من کان غنیا فلیستعفف ومن کان فقیرا فلیاکل بالمعروف۔ پھر فرمایا کہ معروف سے طور قرض مراد ہی۔