hadith book logo

Muawtta Imam Muhammad: Hadith 944

.

موطأ الامام محمد

944
Muawtta Imam Muhammad
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْمَرٍ، عَنْ عُبَيْدٍ يَعْنِي ابْنَ حُنَيْنٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَلَسَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَقَالَ: «إِنَّ عَبْدًا خَيَّرَهُ اللَّهُ تَعَالَى بَيْنَ أَنْ يُؤْتِيَهُ مِنْ زَهْرَةِ الدُّنْيَا مَا شَاءَ، وَبَيْنَ مَا عِنْدَهُ، فَاخْتَارَ الْعَبْدُ مَا عِنْدَهُ» ، فَبَكَى أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، وَقَالَ: فَدَيْنَاكَ بِآبَائِنَا وَأُمَّهَاتِنَا، قَالَ: فَعَجِبْنَا لَهُ، وَقَالَ النَّاسُ: انْظُرُوا إِلَى هَذَا الشَّيْخِ يُخْبِرُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِخَبَرِ عَبْدٍ خَيَّرَهُ اللَّهُ تَعَالَى، وَهُوَ يَقُولُ: فَدَيْنَاكَ بِآبَائِنَا وَأُمَّهَاتِنَا. فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ الْمُخَيَّرُ، وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَعْلَمَنَا بِهِ. وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ أَمَنَّ النَّاسِ عَلَيَّ فِي صُحْبَتِهِ وَمَالِهِ أَبُو بَكْرٍ، وَلَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِيلا لاتَّخَذْتُ أَبَا بَكْرٍ خَلِيلا، وَلَكِنْ أُخُوَّةُ الإِسْلامِ، وَلا يَبْقَيَنَّ فِي الْمَسْجِدِ خَوْخَةٌ إِلا خَوْخَةُ أَبِي بَكْرٍ»
عبید بن حنین نے ابو سعید خدری (رض) سے روایت نقل کی کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) منبر پر تشریف فرما ہوئے۔ اور ارشاد فرمایا کہ ایک بندے کو اللہ تعالیٰ نے اختیار دیا کہ وہ چاہے تو اسے دنیا کی بہادے دی جائے جتنی اسے پسند ہو۔ اور اگر وہ پسند کرے تو اس کے ہاں جانا پسند کرے۔ اس بندے نے اللہ تعالیٰ کے ہاں جو کچھ ہے اس کو پسند کرلیا۔ یہ سن کر ابوبکر (رض) رو پڑے اور کہنے لگے ہمارے ماں ، باپ آپ پر قربان ہوں۔ ابو سعید کہتے ہیں کہ ہم نے اس پر تعجب کیا۔ لوگوں نے کہا اس بوڑھے کو دیکھو کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تو ایک بندے کی خبر دے رہے ہیں۔ جس کو اللہ تعالیٰ نے اختیار دیا ہے۔ اور وہ کہہ رہے ہیں۔ ہم آپ پر اپنے ماں ، باپ وارتے ہیں۔ حالانکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا۔ بیشک لوگوں میں مجھ پر سب سے بڑھ کر احسان کرنے والا خواہ دوستی کے لحاظ سے ہو یا مال کے لحاظ سے ہو وہ ابوبکر (رض) ہیں۔ اگر میں کسی کو خلیل منتخب کرتا تو ابوبکر کو خلیل بناتا۔ لیکن اخوت اسلام کی اخوت ہے اور مسجد میں جن مکانات کی کھڑکیاں کھلتی ہیں۔ وہ تمام بند کردی جائیں صرف ابوبکر (رض) کی کھڑکی کھلی رہے۔